اسلام آباد کچہری حملے کے ملزمان گرفتار، نور ولی محسود نے حملے کی منصوبہ بندی کی:وزیر اطلاعات عطا تارڑ

اسلام آباد کچہری حملے کے ملزمان گرفتار، نور ولی محسود نے حملے کی منصوبہ بندی کی:وزیر اطلاعات عطا تارڑ

وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران بتایا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے کچہری حملے کے ملزمان کو تیزی سے گرفتار کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انٹیلیجنس بیورو اور سی سی ڈی نے حملے کے چار ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جن میں دہشت گردوں کی منصوبہ بندی میں ملوث نور ولی محسود بھی شامل ہے۔عطا تارڑ کے مطابق، حملہ آوروں میں سے افغان شہری عثمان شنورای، جو ننگرہار کا رہائشی ہے، نے حملہ کیا۔ اس کے علاوہ، ساجد اللہ عرف شینا، کامران خان، محمد ذالی اور شاہ منیر کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ ساجد اللہ عرف شینا خودکش حملہ آور ہے اور اس نے 2015ء میں تحریک طالبان افغانستان میں شمولیت اختیار کی، جہاں اسے تربیت بھی دی گئی۔پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ دہشت گردوں کا ہدف اسلام آباد اور راولپنڈی کے علاقے تھے، مگر سیکیورٹی کی وجہ سے وہ اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکے۔ حملہ آوروں کو افغانستان سے تربیت ملی تھی، اور نور ولی محسود نے ہی منصوبہ بندی کی تھی۔عطا تارڑ نے نشاندہی کی کہ، 2023ء میں، ساجد اللہ نے ایک شخص، داد اللّٰہ، سے ملاقات کی، اور حملے کی منصوبہ بندی خوارج سرغنہ نور ولی محسود نے اپنی کمانڈ کے ذریعے کی۔ داد اللّٰہ اس وقت افغانستان میں موجود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ساجد اللہ عرف شینا نے پاکستان واپس آکر خودکش حملہ آور عثمان شنواری سے ملاقات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ساجد اللہ مرکزی ملزم ہے اور تحریک طالبان کا رکن رہا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران اس کا اعترافی بیان بھی دکھایا گیا۔عطا تارڑ نے کہا کہ ہماری سیکیورٹی ایجنسیاں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پاک فوج مکمل طور پر الرٹ ہیں۔ انہوں نے قوم کو یقین دلایا کہ تمام حقائق سامنے لائے گئے ہیں اور یہ کامیابی دہشتگردی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ وہ شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔