پاکستانی حکومتی شخصیات کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بھارت میں بلاکنگ کا سلسلہ حالیہ دنوں میں تیز ہوا ہے، جس میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ بھی شامل ہے۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب وزیر موصوف نے عالمی میڈیا پر بھارت کی ریاستی پالیسیوں پر تنقید کی، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کیا اور کشمیری عوام کی آواز کو دبانے کی بھارتی کوششوں کو اجاگر کیا۔ ان کے اس مؤقف کے ردعمل میں بھارتی حکام نے ان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بلاک کر دیا۔اس سے قبل، وزیراعظم شہباز شریف کا یوٹیوب چینل بھی بھارت میں بلا اطلاع بند کر دیا گیا تھا، جہاں وزیراعظم کی تقریریں، بیانات اور حکومتی پالیسیوں سے متعلق ویڈیوز جاری کی جاتی تھیں۔ پاکستان نے اس اقدام کو اظہارِ رائے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
بھارت کی جانب سے اعلیٰ حکومتی عہدیداران کی ڈیجیٹل موجودگی کو محدود کرنے کے یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت اپنی ریاستی پالیسیوں پر تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ پاکستان نے ان اقدامات کو آزادیِ اظہار پر حملہ اور بین الاقوامی سطح پر اظہارِ رائے کی آزادی کے اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔