لیبرروم میں چھپکلیاں،چادریں گندی، بلڈنگ میں کتے ،بجلی کا بیک اپ نہ سولر انسٹال
بی ایچ یوز میں خریدی ادویات کی انوائس نہ وارنٹی،مانیٹرنگ رپورٹ فائلوں کی نذر
لاہور(کرائم رپورٹر)پنجاب مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن نے محکمہ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن کے مریم نواز ہیلتھ کلینک پراجیکٹ میں مبینہ طور پر شدید بد انتظامی و بے ضابطگیوں کے بارے میں رپورٹ اعلیٰ حکام کو پیش کردی جس میں کہا گیا ہے کہ مختلف سنٹرز کے دورہ پر پتا چلا کہ مریضوں کا ڈیٹا غلط، ویکسین کا ریکارڈ ادھورا اور علاج کا کوئی معیار طے ہی نہیں ہے، چیف سیکرٹری پنجاب زاہد زمان کو پیش کی گئی رپورٹ فائلوں اور کاغذی کارروائی کی نذر ہو گئی۔ چیف سیکرٹری پنجاب آفس ذرائع سے موصول ہونیوالی معلومات کے مطابق رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ مریم نواز ہیلتھ کلینک میں ایک شناختی کارڈ پر چھ چھ مریضوں کی رجسٹریشن کی جانے لگی۔ لیبر روم میں گندے بیڈ شیٹس اور گندے تکیے، صفائی کا نظام انتہائی ناقص، لیبر روم میں چھپکلیاں، کلینکل بلڈنگ میں کتے موجود پائے گئے۔ آئوٹ سورس بی ایچ یوز پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن میں رجسٹرڈ ہی نہیں۔ آئی ایل آر، ویکیسن فریج کیلئے بجلی کا بیک اپ موجود ہی نہیں، رپورٹ کے ساتھ مانیٹرنگ ٹیم نے تصاویریں بھی لگا دیں، بی ایچ یوز میں ادویات ناقص ذرائع سے خریدی گئیں، کوئی انوائس، وارنٹی تک موجود ہی نہیں، ادویات غیر معروف سپلائرز سے خریدنے سے کئی سوالات کھڑے ہو گئے، ادویات کی خریداری میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی رولز کی خلاف ورزی کی گئی، لیبارٹریز، ویکسی نیشن رومز میں کوئی ٹیمپریچر مانیٹرنگ شیٹ موجود ہی نہیں، ریفرڈ مریضوں کا کوئی ریکارڈ موجود ہی نہیں، آئوٹ سورس ڈیلیوری میں احتساب و چیک اینڈ بیلنس ختم، بغیر لاگ کے کام کئے گئے، سولر سسٹم بجٹ میں شامل، مگر انسٹال تک نہیں کئے گئے، سی سی ٹی وی کیمرے کہیں انسٹال نہیں کئے گئے، ای ایم آر سسٹم کے باوجود عملہ ہاتھ سے ڈیٹا اندراج کرنے لگا، بعض سرکاری دستاویزات کے مطابق پراجیکٹ کی لاگت 9ارب 36کروڑ روپے ہے، مگر کلینک بنیادی چیزوں سے محروم ہیں، تحفظ صحت کے بنیادی اصول نظر انداز، کیئر اسٹینڈرڑز پر عمل نہیں ہوا ہے۔ اس حوالے سے مانیٹرنگ اینڈ ایولوایشن حکام کا کہنا ہے کہ رپورٹ مرتب کرکے متعلقہ افسران کو بھجوائی گئی ہے۔