وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے اپنے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ لوگوں کو انتشار اور گالم گلوچ کی سیاست نہیں چاہیے، بلکہ وہ عوام کی بہتری کے لیے کام کرنے والی قیادت چاہتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے احتجاجی جلسوں کی مخالفت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی والے عمران خان کی رہائی کے بجائے عوام کی فلاح کے لیے نکلیں تو عوام ان کے ساتھ ہوں گے۔شرجیل میمن نے کہا کہ اس وقت ملک میں افراتفری اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور اس وقت تمام وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا مقصد عوام کی توقعات پر پورا اترنا ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت میں سندھ حکومت نے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے، جن میں کسانوں کے لیے کسان کارڈ جاری کرنا، پانی کے مسائل حل کرنا، اور 21 لاکھ گھروں کی فراہمی کے وعدے کو پورا کرنا شامل ہیں۔
انہوں نے خیبر پختونخوا (کے پی) میں بارہ سال کے دوران امن و امان کے حالات پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اے پی ایس اور بنوں جیل توڑنے کے واقعات کے بعد کے پی حکومت کچھ نہیں کر سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ کے پی کے عوام روزگار کے لیے دوسرے صوبوں کا رخ کرتے ہیں اور وہاں کی حکومت نے عوام کے لیے کچھ نہیں کیا۔شرجیل میمن نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی احتجاجی کال عوام کے مسائل کے حل کے بجائے صرف عمران خان کی رہائی تک محدود تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سندھ سے کسی بھی شخص نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے لیے رضاکارانہ طور پر شرکت نہیں کی، اور عوام نے 24 نومبر کو ہونے والی احتجاجی کال کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے کبھی بھی ذاتی مفادات کے لیے حکومتی مشینری کا استعمال نہیں کیا۔آخر میں، شرجیل میمن نے بشریٰ بی بی کے سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے بارے میں بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ کارکنان انہیں سیاسی طور پر قبول نہیں کر رہے۔