غذائی ضروریات پورا کرنے کے لیے قیمتی زر مبادلہ خرچ کر کے بیرون ملک سے گندم درآمد کرنا پڑے گی

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) پچھلے سال گندم کی سرکاری خریداری نہ ہونے کی وجہ سے کسانوں کو ہونے والے شدید مالی نقصانات کے بعد اس مرتبہ گندم کی بوائی انتہائی سست روی کا شکار ہے اور اس بات کا امکان بڑھ رہا ہے کہ قرضوں میں جکڑی ہوئی پاکستانی حکومت کو ملکی غذائی ضروریات پورا کرنے کے لیے قیمتی زر مبادلہ خرچ کر کے بیرون ملک سے گندم درآمد کرنا پڑے گی۔پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد کھوکھر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اس سال گندم کی فصل پچھلے سال کے مقابلے میں 20 فیصد کم رہنے کا امکان ہے۔ گندم کی پیداوار میں 15 فیصد کمی اس فصل کی کم رقبے پر کاشت کی وجہ سے ہو گی جبکہ باقی ماندہ پانچ فیصد کمی کا سبب یہ ہو گا کہ معاشی مسائل کا شکار ایک عام کسان اپنی فصل کے لیے معیاری بیج اور مناسب مقدار میں کھادوں اور زرعی ادویات کا استعمال نہیں کر سکے گا۔پاکستانی صوبہ پنجاب میں زراعت اور لائیو سٹاک کے وزیر سید عاشق حسین کرمانی کی زیر صدارت گندم کی کاشت کے حوالے سے ہونے والے ایک حالیہ سرکاری اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ اس سال پنجاب میں گندم کی کاشت کا ہدف ایک کروڑ 65 لاکھ ایکڑ مقرر کیا گیا تھا، جس میں سے اب تک صرف 70 لاکھ 91 ہزار ایکڑ رقبے پر ہی گندم کاشت کی جا سکی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ گندم کی کاشت کا سرکاری ہدف تاحال آدھا بھی حاصل نہیں ہو سکا۔ہائبرڈ گاڑیوں کے بعد اب ہائبرڈ گندم بھی مارکیٹ میں آنے کوصوبائی محکمہ زراعت کے ایک ترجمان کے مطابق سرگودھا ڈویڑن میں گندم کی کاشت چھ لاکھ 33 ہزار ایکڑ رقبے پر ہوئی جبکہ ہدف 17 لاکھ 40 ہزار ایکڑ تھا۔ ''اسی طرح ساہیوال میں چار لاکھ 16 ہزار ایکڑ پر گندم کاشت ہوئی جبکہ ہدف نو لاکھ 20 ہزار ایکڑ تھا۔ملتان ڈویڑن میں چھ لاکھ 30 ہزار ایکڑ پر گندم کاشت کی گئی جبکہ ہدف 18 لاکھ 20 ہزار ایکڑ تھا۔ ڈیرہ غازی خان میں 11 لاکھ 41 ہزار ایکڑ رقبہ گندم کی کاشت کے لیے استعمال ہوا ہے جبکہ ہدف 22 لاکھ 94 ہزار ایکڑ تھا۔ بہاولپور ڈویڑن میں آٹھ لاکھ 28 ہزار ایکڑ پر گندم کاشت ہو چکی ہے جبکہ ہدف 26 لاکھ 11 ہزار ایکڑ تھا۔‘‘پاکستان میں گندم کی فصل غذائی تحفظ کی ضامن ہے اور ملکی پیداوار میں سے 70 فیصد گندم صوبہپنجاب سے ہوتی ہے۔پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے گندم کی کاشت اور پیداوار میں اضافے کے لیے ایک خصوصی پیکج کا اعلان بھی کیا ہے۔اس پیکج کے مطابق 25 ایکڑ سے زائد رقبے پر گندم کاشت کرنے والے کسانوں کو قرعہ اندازی کے ذریعے ایک ہزار ٹریکٹر دیے جائیں گے جبکہ 12.5 ایکڑ تک گندم کاشت کرنے والے کسانوں کو قرعہ اندازی کے ذریعے لیزر لینڈ لیولر اور چھوٹے کاشت کاروں کو کسان کارڈ کے ذریعے بیج، کھاد اور زرعی ادویات کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔