اہم مشاورتی اجلاس چاروں صوبے لاک ڈائون کے مخالف اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عام آدمی پر کم سے کم ڈالا جائے:آصف زرداری
تیل و گیس کی فراہمی پر دباؤ اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے تناظر میں عوام، خصوصاً کم آمدنی والے طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں‘ وفاق اور صوبوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے
معاشی نظم و نسق، توانائی کی منصوبہ بندی، غذائی تحفظ اور سکیورٹی تیاریوں کیلئے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے:صدر مملکت‘اجلاس میں وزیراعظم‘وفاقی وزراء‘بلاول بھٹو‘ ‘مشیر قومی سلامتی بھی شریک ہوئے
اسلام آباد(آن لائن)صدر آصف علی زرداری نے ہدایت کی ہے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عام آدمی پر کم سے کم ڈالا جائے اور اس مقصد کیلئے وفاق اور صوبوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے۔ معاشی نظم و نسق، توانائی کی منصوبہ بندی، غذائی تحفظ اور سیکیورٹی تیاریوں کے درمیان مربوط حکمت عملی اپنائی جائے۔صدر کی زیر صدارت ایوانِ صدر میں معیشت، توانائی اور بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے حوالے سے ایک اہم اور توسیعی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزراء، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی قیادت سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلا س کے بعد جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں ملک کو درپیش معاشی چیلنجز، توانائی کے شعبے میں دباؤ اور خطے کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ صدر مملکت نے ہدایت کی تیل و گیس کی فراہمی پر دباؤ اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے تناظر میں عوام، خصوصاً کم آمدنی والے طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔صدر نے اس بات پر زور دیا کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عام آدمی پر کم سے کم ڈالا جائے اور اس مقصد کیلئے وفاق اور صوبوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں ایندھن کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں اور موجودہ ضروریات کو پورا کرنے کیلئے وافر ذخائر دستیاب ہیں، جبکہ مستقبل کیلئے بھی مؤثر انتظامات کیے جا رہے ہیں۔وزیراعظم کے حوالے سے اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ انہوں نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی متعدد تجاویز مسترد کر دی ہیں اور حکومتی سطح پر اختیار کی گئی کفایت شعاری کے نتیجے میں حاصل ہونے والے وسائل عوامی ریلیف پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ترقیاتی اخراجات میں کمی اور 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو فوری طور پر بند کرنے جیسے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔اجلاس میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتوں کی جانب سے مہنگائی پر قابو پانے، اشیائے ضروریہ کی دستیابی یقینی بنانے اور عوامی مشکلات کم کرنے کیلئے کیے گئے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے سیکیورٹی، معیشت اور غذائی تحفظ پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اجلاس کو اپنی سفارتی سرگرمیوں سے آگاہ کیا، جبکہ انہوں نے چین کے کے آئندہ دورے کے بارے میں بھی بتایا۔صدر مملکت نے ہدایت کی معاشی نظم و نسق، توانائی کی منصوبہ بندی، غذائی تحفظ اور سیکیورٹی تیاریوں کے درمیان مربوط حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ موجودہ چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر صدر نے عوام میں آگاہی مہم چلانے کی ضرورت پر بھی زور دیا، جس میں ایندھن کی بچت، پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال اور کار پولنگ جیسے اقدامات کو فروغ دینے کی ہدایات شامل ہیں۔اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، چاروں صوبوں، گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ اور وزیراعظم آزاد کشمیر ‘ محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر داخلہ محسن رضا نقوی ‘مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب‘وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ‘وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک‘وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، وزیر بجلی سردار اویس احمد لغاری، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر سید توقیر شاہ سمیت وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ خان، معاونِ خصوصی طارق باجوہ، سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب بھی شریک ہوئے۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا، ڈاکٹر عاصم حسین اور متعلقہ وزارتوں و ڈویژنز کے سینئر افسران بھی موجود تھے‘اجلاس میں چاروں صوبوں نے ملک میں لاک ڈائون کی مخالفت کردی ہے تاہم ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ذرائع کے مطابق صدر مملکت کی زیر صدارت قومی سیاسی قیادت کے اہم اجلاس میں ملک بھر میں سمارت لاک ڈاون کے نفاذ کی تجویز پر غورکیا گیا تاہم صوبوں نے ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاون کی مخالفت کر دی۔ذرائع کے مطابق صوبائی حکومتوں نے بھی وفاق سے لاک ڈاؤن نہ لگانے کی سفارش کر دی ۔اجلاس میں کفایت شعاری اقدامات کو مزید سخت کرنے کا عزم ظاہر اورتوانائی اور ایندھن کی بچت کے لیے اقدامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں ذرائع کے مطابق صوبوں پر بھی 254 ارب کے ریلیف پیکج میں حصہ ڈالنے پر زوردیا گیا اورصوبوں نے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی پر آمادگی ظاہر کردی