ٹاسک فورس میں نجی شعبے اور بین الاقوامی شہرت کے ماہرین کی شمولیت یقینی بنائی جائے‘ سالڈ ویسٹ سے توانائی پیدا کرنے سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا ‘ زرمبادلہ کی بچت ممکن ہوگی‘ نظام کاربن فٹ پرنٹ میں نمایاں کمی کا باعث بن سکتا ہے
وزیراعظم اور آذربائیجان کے صدر الہام علییوف کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ‘دونوں رہنماؤں کا تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق،مثبت پیش رفت پر اظہار اطمینان
وزیراعظم سے بلوچستان کے سینئر سیاستدانوں کی ملاقات ‘بلوچستان کی مجموعی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق امور پر تبادلہ خیال‘بلوچستان کی ترقی‘عوام کی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے:شہبازشریف
اسلام آباد( آن لائن )وزیراعظم کی زیر صدارت سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں اسلام آباد سمیت ملک بھر میں صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر جدید اور پائیدار ویسٹ مینجمنٹ نظام متعارف کرانے کی ہدایت کی گئی۔اجلاس میں وزیراعظم نے سالڈ ویسٹ سے بجلی پیدا کرنے کیلئے جامع روڈ میپ تیار کرنے اور اس مقصد کیلئے ایک ٹاسک فورس تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ ٹاسک فورس جدید ٹیکنالوجی اور عالمی تجربات کی روشنی میں سفارشات مرتب کرے گی۔وزیراعظم نے ہدایت کی مجوزہ ٹاسک فورس میں نجی شعبے اور بین الاقوامی شہرت کے ماہرین کی شمولیت بھی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سالڈ ویسٹ سے توانائی پیدا کرنے سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا اور قیمتی زرمبادلہ کی بچت ممکن ہوگی۔وزیراعظم کے مطابق بہتر سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نظام کاربن فٹ پرنٹ میں نمایاں کمی کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ پائیدار ترقی کیلئے ماحول دوست اور قابل تجدید توانائی ذرائع کا فروغ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔اجلاس میں وفاقی وزراء ڈاکٹر احسن اقبال، علی پرویز ملک، اویس احمد خان لغاری، وزیراعظم کے مشیران رانا ثناء اللہ اور محمد علی سمیت متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔دریں اثناء شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں غذائی تحفظ اور کھاد کے ذخائر کی صورتحال پر اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں کسانوں کو بروقت کھاد کی فراہمی یقینی بنانے اور زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ خلیجی ممالک سے کھاد کی سپلائی چین متاثر ہونے کے پیش نظر وسطی ایشیائی ممالک سے کھاد کی متبادل فراہمی کی منصوبہ بندی کی جائے۔ انہوں نے خریف اور ربیع سیزن کیلئے کھاد کے وافر ذخائر یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔شہباز شریف نے کہا کہ غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے زرعی شعبے کی ضروریات پوری کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو کھاد کی فراہمی کی مسلسل نگرانی کرنے اور مصنوعی قلت و ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔وزیراعظم محمد شہباز شریف اور آذربائیجان کے صدر الہام علییوف کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔گفتگو نہایت گرمجوشی اور خیرسگالی کے ماحول میں ہوئی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات اور دیرینہ دوستی کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعظم نے صدر علییوف کو آئندہ ہفتے باکو میں منعقد ہونے والے ورلڈ اربن فورم کے کامیاب انعقاد کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آذربائیجان کی میزبانی میں یہ فورم عالمی سطح پر شہری ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ وزیراعظم نے اپنی سرکاری مصروفیات کے باعث فورم میں ذاتی شرکت نہ کرنے پر معذرت کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کی اعلیٰ سطحی نمائندگی فورم میں شریک ہوگیوزیراعظم محمد شہباز شریف سے صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینئر سیاستدانوں کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں سینیٹر میر دوستین خان ڈومکی، بلوچستان کے صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سردار عبد الرحمان کھیتران، بلوچستان اسمبلی کے رکن سردار چنگیز مری اور میر خدا بخش مری شامل تھے۔ملاقات کے دوران بلوچستان کی مجموعی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ صوبہ بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور وہاں کے عوام کی فلاح و بہبود وفاقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے اور حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ ان وسائل سے صوبے کے عوام بھرپور استفادہ حاصل کر سکیں۔