گورنر اور چیف سیکرٹری کو اسلام آباد بلایااور کہاجتنی چاہے گندم لیں، پولیس ٹریننگ، سی ٹی ڈی اور سیف سٹی کے منصوبوں کومکمل کریں، صوبے کی تمام ضروریات کو پورا کیا جائیگا:وزیراعظم

دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائیگا خیبرپختونخوا کو جلتا نہیں چھوڑسکتے ترقیاتی کاموں کیلئے160 ارب دینگے:شہبازشریف
خیبرپختونخوا غیور اور بہادر لوگوں کا خوبصورت صوبہ ہے‘ مجبورا گورنر راج لگانا پڑا، آخری دہشتگرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،  ہمارے جوانوں اور افسروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی
 وعدہ کرتا ہوں  وفاقی حکومت ، عسکری قیادت کے ساتھ مل کر خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل حل کرے گی، خوشیاں ، امن اور ترقی کا دور واپس لائیں گے، خیبر پختونخوا کے عوام کی خوشحالی کے خوابوں کو عملی جامہ پہنائیں گے
2018 تک اس صوبے میں مکمل امن قائم ہو گیا تھا،پی ٹی آئی دور میں دہشت گردوں کو دوبارہ بلایا گیا،تمام قربانیوں پر پانی پھیر دیا گیا :گورنر ہائوس پشاور میں  ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں خطاب
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت خیبرپختونخوا  ایپکس کمیٹی کا اہم ترین اجلاس گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا‘اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا  خیبرپختونخوا غیور اور بہادر لوگوں کا خوبصورت صوبہ ہے، ہمیں مجبوری میں صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنا پڑا، اللہ سے دعا ہے  صوبے میں  امن اور ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کرے، پشاور سکول کی چھت گرنے سے ایک استانی اور بچوں کی المناک وفات پر بہت غمزدہ ہوں۔ چند برسوں میں جو حالات پیدا کر دئیے گئے اس کی وجہ سے یہ صوبہ بہت متاثر ہے، چھ برسوں میں جو حالات پید ا کئے گئے اْس کے بعد امن و امان کو بہت نقصان پہنچا، ہماری بہادر افواج اور سیکورٹی اداروں نے بہت قربانیاں دے کر خیبر پختونخوا سمیت پاکستان میں دہشت گردی کا قلع قمع کر دیا تھا۔ 2018 تک اس صوبے میں مکمل امن قائم ہو گیا تھا، یہ امن سیکورٹی اداروں سمیت ہماری ماوں، بہنوں اور بچوں کی قربانیوں کے نتیجے میں قائم ہوا تھا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80ہزار لوگ شہید اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، خیبرپختونخوا کے کئی سیاسی خاندانوں نے دہشت گردی کے خلاف بہت قربانیاں دیں، کئی گھراجڑ گئے، عظیم قربانیوں کے نتیجے میں مکمل امن قائم ہوا تھا۔ قیام امن کے بعد پی ٹی آئی دور میں دہشت گردوں کو دوبارہ بلایا گیا، تمام قربانیوں پر پانی پھیر دیا گیا ، جس کا خمیازہ صوبے کے عوام کو بھگتنا پڑا، قوم کے بچوں کے مستقبل کی خاطر ہماری سیکورٹی فورسز کے ہزاروں جوانوں نے اپنی جانیں قربان کیں، ان قربانیوں کا احساس اور احترام نہ کرنے سے بڑی ملک دشمنی کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ پی ٹی آئی دور میں خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت ، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئے گئے، اس سے بڑی مجرمانہ غفلت اور بے حسی کی مثال اور نہیں ہو سکتی، اسی وجہ سے حالیہ چند برسوں میں دہشت گردی میں پھر اضافہ ہوا، گزشتہ صوبائی حکومت کے دور میں پولیس کی پانچ ہزار اسامیوں پر بھرتی نہیں کی گئی۔ ؤوزیراعظم نے کہا کہ تمام وزراء￿  اعلی نے فیصلہ کیا کہ وفاق اور صوبوں کے حصے کے فنڈز میں سے ایک فیصد اضافی خیبر پختونخوا کو دئیے جائیں، 2010 کے بعد سے خیبر پختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت انسداد دہشت گردی کی مد میں آٹھ سو ارب روپے دئیے گئے، افسوس کا مقام ہے دہشت گردی ختم ہونے کی بجائے مزید ابھر کر سامنے آگئی۔انہوں نے کہا کہ دوستوں کے ساتھ اغیار بھی اقرار کرتے ہیں کہ پاکستان نے معیشت بحال کی، کیا ہم خیبرپختونخوا کو مزیدجلتے ہوئے دیکھتے رہتے؟ ہم نے سیاسی کمیٹی بنائی انھوں نے اڑتالیس گھنٹے تک مذاکرات میں بہت محنت کی، کب تک ہم خیبر پختونخوا میں خون ریزی برداشت کرتے رہتے؟  خیبر پختونخوا کے عوام محرمیوں کا شکار ہیں، وعدہ کرتا ہوں کہ وفاقی حکومت ، عسکری قیادت کے ساتھ ملکر خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل حل کرے گی، خیبر پختونخوا میں خوشیاں ، امن اور ترقی کا دور واپس لائیں گے، خیبر پختونخوا کے عوام کی خوشحالی کے خوابوں کو عملی جامعہ پہنائیں گے۔دریں اثناء قبائلی اضلاع کے نمائندوں پر مشتمل ترقیاتی کونسل اور قبائلی عمائدین کا اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا کی صورتحال، امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔قبائلی مشران نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کی صورتحال پر خصوصی توجہ دینے پر وزیراعظم کے مشکور ہیں، مسائل کے حل میں بھرپور تعاون کریں گے، صوبے کے عوام 13 سال سے مسائل میں گھرے ہوئے تھے،  کے پی میں لوگوں نے سکھ کا سانس لیا، مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہاہے کہ قبائلی عمائدین کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں، قبائلی عمائدین نے ہمیشہ ڈنکے کی چوٹ پر پاکستان کا ساتھ دیا، قبائلی عوام نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بہت قربانیاں دیں، اگر صوبیمیں حالات بہتر ہوتے تو شاید ایمرجنسی کی ضرورت نہ پڑتی، کے پی میں دہشتگردی اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ان کا کہناتھا کہ صوبے میں امن و امان یقینی بنانے کیلئے اہم فیصلے کیے، ترقیاتی کاموں کے حوالے سے 160 ارب روپے مہیاکیا جائے گا، گورنر اور چیف سیکرٹری کو اسلام آباد بلایااور کہاجتنی چاہے گندم لیں، پولیس کی ٹریننگ، سی ٹی ڈی اور سیف سٹی کے حوالے سے منصوبوں کو پورا کرنے کی ہدایت کی ہے، صوبے کی تمام ضروریات کو پورا کیا جائے گا۔