ایک ارب 50 کروڑ ڈالر کی گندم درآمد کرنا پڑے گی ‘خزانے پر بوجھ پڑے گا رانا تنویر حسین

 امدادی قیمت دینے سے متعلق آئی ایم ایف سے بات کررہے ہیں، گندم کی امدادی قیمت سے روٹی کی قیمت پر شاید ایک روپیہ فرق پڑے گا
  موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہیٹ ویو آئی تو گنے میں سکروس کم ہوگئی ‘ پھرمافیا نے  جو کام کیا اس سے قیمت بڑھی ہے:قائمہ کمیٹی کو بریفنگ
اسلام آباد(آئی این پی ) وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی رانا تنویر نے کہا ہے   حالات دیکھ کر لگتا ہے اس بار گندم کم لگے گی  اور ایک ارب 50کروڑ  ڈالرکی گندم درآمد کرنا پڑے گی‘جبکہ گندم پر   امدادی قیمت دینے سے متعلق آئی ایم ایف سے بات کررہے ہیں۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فوڈ سکیورٹی کا اجلاس سید حسن طارق کی زیر صدارت  ہوا جس میں وفاقی وزیر  رانا تنویر شریک ہوئے۔ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے رانا تنویر نے کہا کہ چینی گزشتہ سال سرپلس اور 13 لاکھ ٹن اضافی تھی، اکتوبر میں ہم نے 5 لاکھ ٹن چینی ایکسپورٹ کی۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ ہیٹ ویو آئی تو گنے میں سکروس کم ہوگئی اور پھرمافیا نے پھر جو کام کیا اس سے قیمت بڑھی ہے، اب ہم 150 ملین ڈالر کی چینی منگوا رہے ہیں، آج چینی 170 روپے فی کلو مل رہی ہے، 210 لاکھ ٹن چینی اس وقت ہمارے پاس ہے، اس بار پھر گنے کی بمپر کراپ تھی مگر اب سیلاب کی وجہ سے متاثر ہو سکتی ہے۔ رانا تنویر کا کہنا تھا کہ کوشش ہے اکتوبر کے پہلے ہفتے میں گندم پالیسی کا اعلان کردیں، دیکھنا ہے کہ گندم پالیسی میں سپورٹ پرائس رکھتے ہیں یا نہیں، میں نے تو تجویز دی کہ گندم کی سپورٹ قیمت رکھیں، وزیر اعظم بھی گندم سے متعلق مسلسل رابطے میں ہیں، آج آئی ایم ایف سے بات کررہے ہیں کہ گندم پر امدادی قیمت دے سکیں، میں نے پنجاب حکومت کو کہا ہے، گندم کی امدادی قیمت سے روٹی کی قیمت پر شاید ایک روپیہ فرق پڑے گا