تحریک انصاف احتجاجی قافلے رواں دواں
پختونخوا سے وزیر اعلیٰ گنڈاپور کی قیادت میں قافلہ پنجاب میں داخل، اسلام آبادکے تعلیمی اداروں میں آج چھٹی ،ٹرینیں بھی بند،جگہ جگہ کنٹینرز ،ڈیٹا انٹرنیٹ سروس معطل، عامر ڈوگر، زین قریشی ، حسن نواز زیرحراست
اسلام آباد ،لاہور (بیورو رپورٹ ،کرائم رپورٹر)بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے اسلام آباد میں احتجاج کیلئے پاکستان تحریک انصاف کااحتجاجی قافلہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں قافلہ صوابی سے روانہ ہوا اور اٹک کے راستے پنجاب میں داخل ہوگیا جس کے بعد رات گئے قافلے منزل کی جانب رواں دواں ہیں ،عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی قافلے کے ساتھ روانہ ہوئیں ،کئی جگہ سکیورٹی اہلکاروں اور پی ٹی آئی کارکنوں میں جھڑپیں بھی ہوئیں اورارکان اسمبلی سمیت سینکڑوں پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کرلیاگیا۔تفصیلات کے مطابق عمران خان کی رہائی کیلئے اسلام آباد میں احتجاج کیلئے وزیراعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور کی قیادت میں خیبرپختونخوا سے قافلے صوابی میں جمع ہوئے اور مرکزی قافلے کی صورت میں اسلام آباد روانگی ہوئی ،عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کیلئے پشاور سے روانہ ہو ئی ہیں۔سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم نے اس بات کی تصدیق کی کہ بشریٰٰ بی بی احتجاج میں شریک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ورکر کو اس وقت اکیلا نہیں چھوڑا جا سکتا ، اگر ہم ورکر سے اسکی فیملی کی شمولیت کی توقع رکھتے ہیں تو خان کی فیملی سب سے پہلے مارچ کا حصہ ہوگی۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ بشریٰ بی بی الگ گاڑی میں سوارہیں، صوبائی وزیر پختون یار نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بشریٰٰ بی بی قافلے میں موجود ہیں اور علی امین گنڈاپور قافلے کو لیڈ کر رہے ہیں۔ بشریٰٰ بی بی کی ترجمان مشال یوسفزئی نے کہا کہ بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور میں احتجاج کے معاملے پر کسی قسم کا تنازع نہیں ۔ بشریٰٰ بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بشریٰٰ بی بی قافلے میں ہیں لیکن قافلے کو لیڈ پارٹی قیادت کرے گی،سب کو بشریٰ بی بی کی فکر تھی، لوگ انہیں منا رہے تھیکہ وہ نہ نکلیں، ان کی جان کو خطرہ ہے۔علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے جو حکم ملا ہے اس پر ہر صورت عمل ہو گا،عوام کا سمندر دیکھ لیں ، وفاقی اور پنجاب حکومت جتنے بھی راستے بند کرے ہم کھولیں گے،جتنا وقت لگ جائے ڈی چوک پہنچنا ہے ، راستے کھولنے کیلئے سرکاری نہیں بلکہ پرائیوٹ مشینری ساتھ لے کر جارہے ہیں۔پشاور ٹول پلازہ پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کاکہناتھاکہ بانی پی ٹی آئی، دیگر قیدیوں کی رہائی اور مطالبات کی منظوری تک اسلام آباد میں رہیں گے، میرا اختیار بانی پی ٹی آئی کے پاس ہے جو وہ کہیں گے کروں گا۔پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ صوابی جانے والی پرائیویٹ مشینری کو پشاور ٹول پلازہ کے قریب پولیس کے روکنے کے بعد نامعلوم حملہ آوروں نے حملہ کردیا۔پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ موٹروے پر مسلح نقاب پوشوں نے ہماری کرین، ڈمپر اور دیگر گاڑیوں کو روکا۔انہو ں نے دعوی کیا کہ نقاب پوشوں نے گاڑیوں کو آگ لگانے کی کوشش کی اور ہمارے ڈرائیوروں کو بھی زبردستی اپنی گاڑیوں میں بٹھاکر ساتھ لے گئے۔ پی ٹی آئی پشاور کے صدرعرفان سلیم کا کہنا تھا کہ پولیس کے روکنے کے بعد اچانک نامعلوم افراد نے مشینری پر حملہ کردیا۔انہوں نے دعوی کیا کہ نامعلوم حملہ آوروں کی جانب سے مشینری کے ٹائروں پر فائرنگ کر کے انہیں ناکارہ بنایا گیا اورکرینوں پر پٹرول چھڑک کر آگ لگانے کی کوشش کی گئی تب تک پی ٹی آئی ارکان موقع پر پہنچ گئے۔ حملے کے بعد صوابی جانے والی پرائیویٹ مشینری اور کرینوں کے ڈرائیورز اور دیگر سٹاف لاپتہ ہوگئے ہیں۔ایک ٹی وی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کا احتجاجی قافلہ اٹک کے راستے پنجاب میں داخل ہوا ۔دوسری طرف اسلام آباد کے داخلی راستوں پر کئی مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپیں ہوئیں۔اسلام آباد پولیس کا دعویٰ ہے کہ کھنہ پل کے مقام پر مظاہرین نے پولیس پر شدید پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں ایک اہلکار زخمی ہوا۔ شمس آباد کے مقام پر پولیس اور پی ٹی آئی کے کارکنان کے درمیان تصادم ہوا۔پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کی شیلنگ کی اورلاٹھی چارج بھی کیا ، بعدازاں پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیشِ نظر فیض آباد انٹرچینج پر رینجرز کو تعینات کر دیا گیا۔پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاری کا سلسلہ بھی جاری رہا اور اسلام آباد سے پی ٹی آئی کے 380 کارکنوں کو مختلف مقامات سے حراست لیا گیا۔ راولپنڈی کے تھانہ نصیر آباد کی پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر سابق امیدوار قومی اسمبلی کرنل اجمل صابر راجہ سمیت پی ٹی آئی کے 35 کارکنوں گرفتار کیا۔آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے ڈی چوک اسلام آباد میں تعینات اہلکاروں سے ملاقات کی اور ان کا حوصلہ بڑھایا۔ ان کاکہناتھاکہ گرفتارہونیوالوں میں غیرقانونی مقیم افغان باشندے بھی شامل ہیں۔ڈی چوک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہناتھاکہ لوگوں کی آمد و رفت کو یقینی بنایا جارہا ہے، رکاوٹیں ضرور ہیں لیکن آمد و رفت کے سلسلے کو بند نہیں کیا، ہمارا کام امن و امان برقرار رکھنا ہے۔ فیصل آباد میں کمال پور انٹرچینج پر پولیس نے پی ٹی آئی کے قافلے کو آگے بڑھنے سے روک دیا، پولیس نے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لئے شیلنگ کی تو کارکنوں نے پتھراؤ کیا۔فیصل آباد پولیس نے مختلف مقامات سے 500پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کیا۔فیصل آبا د پولیس نے سرگودھا روڈ پر باراتیوں کی شکل میں جانیوالے مبینہ پی ٹی آئی کارکنوں کی بھی گرفتارکرلیاتاہم 3 گھنٹے بعد دولہا وقار شادی کا کارڈ لے کر سرگودھا روڈ خود پہنچ گیا۔ وقار کا کہنا تھا کہ پولیس نے ڈرائیورز سے موبائل فون اور گاڑیوں کی چابیاں لے لیں ، میری بارات ہاؤسنگ سوسائٹی سے امین پور بنگلہ جانی تھی۔ ملتان میں پولیس نے پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی عامر ڈوگر، زین قریشی اور رکن صوبائی اسمبلی معین قریشی کو گرفتار کرلیا۔ساہیوال میں پی ٹی آئی کے قافلے کو پولیس نے شرقی بائی پاس پر روک کر ایم این اے رائے حسن نواز کو گرفتار کرلیا، اس دوران پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان آمنے سامنے آگئے، کارکنوں نے پولیس کے خلاف نعرے لگائے،ساہیوال سے 200افراد کو حراست میں لیاگیا۔اوکاڑہ سے 81افرادکو حراست میں لیاگیا ، سابق صوبائی ٹکٹ ہولڈر مہرجاوید کو بھی ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا گیا۔ ہری پور میں جنڈال برئیر پر پنجاب پولیس نے پی ٹی آئی ہزارہ ڈویڑن کے قافلے کو روک لیا جس کے باعث اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان قافلے سمیت پنجاب کی حدودمیں داخل نہیں ہوسکے، سپیکرصوبائی خیبرپختونخواہ بابر سلیم سواتی بھی عمرایوب خان کیقافلے میں شامل تھے۔اپوزیشن لیڈر کے قافلے پر پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ اور ربڑ کی گولیاں برسائی گئیں جبکہ پولیس کے لاٹھی چارج سے متعدد کارکن زخمی ہوگئے جبکہ متعدد گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گے۔پاکستان تحریک انصاف کی قیادت پنجاب خصوصاً لاہور سے کارکنوں کو باہر نکالنے میں کامیاب نہ ہو سکی ، دعوؤں کے برعکس انتہائی کم تعداد میں کارکن باہر نکلے جنہیں پولیس نے حراست میں لے لیا جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔لاہور پولیس نے سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی پنجاب حافظ ذیشان اور سابق رکن پنجاب اسمبلی ندیم عباس بارا سمیت متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کو لٹن روڈ پر نکالی ریلی سے حراست میں لے لیا۔ لاہور میں بتی چوک سے تحریک انصاف کی احتجاج کی کال پر آنے والے دس کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا،جن میں چھ خواتین بھی شامل ہیں۔ این اے 127 سے ٹکٹ ہولڈر ظہیر عباس کھوکھر بھی کارکنوں کے ہمراہ بتی چوک پہنچے تاہم پولیس کی بھاری نفری نے ان پر دھاوا بول دیا ،ظہیر عباس کھوکھر فرار ہوگئے جبکہ پولیس نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر ضمیر احمد جھیڈو کو گرفتار کرلیا ،ان کے ڈیرے سے پی ٹی آئی کے کارکنوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس نے آئی ایل ایف کے وکیل یوسف وائیں ایڈووکیٹ کو مزنگ اڈا چوک سے گرفتار کیا۔گوجرانوالہ کے علاقے تتلے عالی میں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان آمنے سامنے آگئے،سابقہ ایم این اے بلال اعجاز اورارقم خان احتجاج میں شامل ہونے کے لئے ارکان کے ہمراہ نکلے،پولیس نے روکا تو کارکنوں نے پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا،پولیس نے پی ٹی آئی کے6کارکنوں کو گرفتارکرلیا جبکہ رانابلال اعجازاورارقم خان موٹرسائیکل پر بیٹھ کر فرارہوگئے۔جہلم میں پولیس نے اسلام آباد جاتے ہوئے ایم پی اے رفعت زیدی کے قافلے پر چھاپہ مارکر21کارکنوں کو گرفتارکیا۔ سندھ کے شہر شکارپور میں پولیس نے حلیم عادل شیخ کی قیادت میں اسلام آباد جانے والے تحریک انصاف کے قافلے میں موجود متعدد کارکنوں کو گرفتار کرلیا جبکہ پولیس نے کارکنوں کو منتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ بھی کی۔شکارپور پولیس نے پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے پتھراؤ کا دعویٰ کیا، کشیدگی کے باعث انڈس ہائی وے بلاک ہوگئی جبکہ رات گئے کومبنگ آپریشن میں سیکڑوں کارکنوں کو گرفتار کرلیاگیا۔دوسری طرف وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہاہے کہ حکومت کسی سے ڈرنے والی نہیں، جو بھی انتشار پھیلائے گا اس کو گرفتار کیا جائے گا، پنجاب سمیت پورے پاکستان میں ہر چیز ٹھیک ہے۔پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر سڑکیں بند کرکے کنٹینر لگائے گئے تھے جبکہ اسلام آباد کو مکمل طور پر سیل کردیاگیا ،ٹرینیں،موبائل سروس ،انٹرنیٹ بند رہے ،جڑواں شہروں میں آج تعلیمی ادارے بھی بند رہیں گے۔تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کے احتجاج کے باعث اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستے بند کرکے مختلف علاقوں کو سیل کردیا گیا، اسلام آباد اور راولپنڈی میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند کردی گئیں ، ایران ایونیو مارگلہ روڈکو دونوں اطراف سے کنٹینرز لگا کر بلاک کیا گیا ،جڑواں شہروں میں رینجرز،ایف سی ،ایلیٹ فورس اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی جبکہ میٹرو بس سروس معطل اور بس اڈے بھی بند کر دیئے گئے ۔وفاقی پولیس نے ڈی چوک کا کنٹرول سنبھال لیا، شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر پولیس اور ایف سی اہلکاروں کی ڈیوٹیاں لگائی گئیں ، فرنٹ لائن پر رہنے والی پولیس فورس کو اینٹی رائٹ کٹس ، آپریشن سامان کی فراہمی کردی گئی جبکہ چونگی نمبر26، ترنول، کٹی پہاڑی اورسنگجانی میں رینجرز تعینات رہے۔اڈیالہ جیل کی طرف جانے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر مکمل طور پر سیل کر دیا گیا جبکہ جیل جانے والی مرکزی شاہراہ کو ہر طرح کی ٹریفک کیلئے بند کر دیا گیا ،اڈیالہ جیل روڈ پر جگہ جگہ پولیس کی نفری تعینات کی گئی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل کی طرف کسی بھی مظاہرے کی اجازت نہیں ہے۔جڑواں شہروں کو ملانے والے 70 مقامات کی سی سی ٹی وی کیمروں سے نگرانی کی جاتی رہی۔مظاہرین کو اسلام آباد میں داخلے سے روکنے کیلئے مختلف انٹری پوائنٹس پر 6 ہزار پولیس اہلکار تعینات کئے گئے۔دینہ میں پنجاب اور آزاد کشمیر کو ملانے والا پل کنٹینرز لگا کر بند کردیا گیا جبکہ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس کی بھاری نفری موجود رہی ، حکومت کی جانب سے شہر اقتدار کی جانب جانے والے تمام راستے سیل کئے گئے ہیں ، موٹر ویز بھی متعدد مقامات پر ٹریفک کیلئے تاحکم ثانی بند رہیں گی۔ پنجاب میں 3 دن اور بلوچستان میں 15 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ کردی گئی جس کے باعث ہر قسم کے احتجاج، جلسے، جلوس، ریلیوں اور دھرنوں پر پابندی عائد کردی گئی۔ مختلف شہروں میں خندقیں کھود کر شہر سے باہر نکلنے کے راستے بند کئے گئے۔راولپنڈی اور اسلام آباد میں آج تمام تعلیمی ادارے بند رکھنیکا اعلان کر دیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تعلیمی ادارے بند رکھنے کے نوٹیفکیشن کا اطلاق تمام سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی اداروں پرہوگاجس کا نوٹیفکیشن جاری کردیاگیاہے۔ پاکستان ریلویز نے پی ٹی آئی احتجاج کے پیش نظر لاہور، راولپنڈی اور پشاور کے درمیان تمام ٹرینیں بھی بند کر دیں، ٹرانسپورٹ بند ہونے پرریلوے سٹیشنز کا رخ کرنے والے مسافروں کا مایوس واپس لوٹنا پڑا۔ پاکستان ریلوے نے پشاور سے راولپنڈی، لاہور سے راولپنڈی جبکہ ملتان اور فیصل آباد سے راولپنڈی کے درمیان تمام ٹرین سروس اچانک بند کر دی۔ ریلوے حکام کے مطابق اتوار 24 نومبر کی تمام 25 ریل گاڑیوں کی بک ٹکٹیں بھی منسوخ کر دی گئیں جبکہ تمام گاڑیوں کے مسافروں کو ٹکٹوں کے پیسے فوری واپس کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ریلوے سٹیشنزپر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی، مسافروں کو سٹیشنز کے عارضی ٹکٹ گھر سے ہی بکنگ ٹکٹوں کے پیسے واپس کئے جائیں گے۔ مختلف شہروں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس متاثر رہیں ، اسلام آباد اور راولپنڈی میں موبائل سروس مکمل بحال رہی جبکہ دونوں شہروں میں ڈیٹا انٹرنیٹ سروس بند تھی۔ لاہور کیداخلی اورخارجی راستوں کے اطراف علاقوں میں موبائل سروس جزوی معطل رہی جبکہ کچھ علاقوں میں واٹس ایپ سروس بھی متاثرہوئی۔ گوجرانوالہ، حافظ آباد، راجن پور، فیصل آباد، جہانیاں، وہاڑی میں انٹرنیٹ سروس کہیں معطل رہا اور کہیں انٹرنیٹ کی رفتار انتہائی سست رہی۔خیبر پختونخوا میں موبائل فون سروس مکمل بحال رہی تاہم پشاور، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں انٹرنیٹ معطل تھاجبکہ کچھ علاقوں میں انٹرنیٹ سست روی کا شکار ہے۔ صوبہ سندھ کے دارالخلافہ کراچی میں بھی موبائل فون انٹرنیٹ سروس کے استعمال میں شہریوں کو مشکلات کا سامنا رہا۔ فیصل آباد کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر کنٹینرز لگاکر راستوں کو مکمل طور پر بلاک کردیا گیا، شہر بھر میں پولیس فلیگ مارچ بھی کیا گیا۔ رحیم یارخان میں پولیس نے قومی شاہراہ کو ٹریفک کیلئے کوٹ سبزل کے مقام پر کنٹینرز لگا کر دونوں طرف سے مکمل بند کردیا گیا، شاہراہ کی بندش سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں جبکہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے آنے جانے والے مسافروں کو مشکلات کا سامنارہا، سندھ پنجاب بارڈر پر پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات تھی۔سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اعلامیہ میں کہا کہ اسلام آباد سمیت ملک بھرمیں فلائٹ آپریشن معمول کے مطابق جاری رہے گا۔ بین الاقوامی پروازوں کے مسافروں کو اسلام آباد ایئرپورٹ پر روکنے کی افواہیں سراسر جھوٹ اور بیبنیاد ہیں،سی اے اے نے سوشل میڈیا پر زیر گردش خبروں کو فیک نیوز قرار دے کر مسترد کردیااورجھوٹی خبریں پھیلانے والے اکائونٹس کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز بھی کردیا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک کا فضائی دورہ کیا اور سکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق امن عامہ یقینی بنانے کیلئے ضروری اقدامات کئے ہیں، حکومت نے عوام کی جان و مال کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے ہیں ، شر پسندوں سے قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو دارالحکومت میں امن وامان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، انتظامیہ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔بعدازاں محسن نقوی پولیس،ایف سی اور رینجرز جوانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ڈی چوک ک پہنچ گئے، چیف کمشنر اسلام آباد،آئی جی اور ڈپٹی کمشنر بھی ہمراہ تھے۔انہوں نے ایف ایٹ ،انٹرچینج اور ایف ٹین چوک کا اچانک دورہ کیا اور جاری تعمیراتی کاموں کا معائنہ کیا۔ محسن نقوی نے کہا ہے کہ کوئی احتجاجی آئے تو فوراً گرفتار کرلیا جائے، کوشش ہے اہلیان اسلام آباد کو کم سے کم تکلیف ہو۔ڈی چوک میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے ان کا کہناتھاکہ موبائل سروس چل رہی ہے، موبائل پر صرف انٹرنیٹ بند کیا گیا ، اس بار سڑکیں اتنی بند نہیں، جتنا پچھلی بار بند ہوئی تھیں، مظاہرین نے اس روٹ پر آنے کی کوشش کی جس سے مہمان صدر کے قافلے نے آنا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزیروں کی توجہ ضلع کرم کے بجائے اسلام آباد پر دھاوے پر ہے، صرف خیبر پختونخوا سے احتجاجی جلوس آرہے ہیں، پنجاب میں کوئی ریلی نہیں ہے۔