خیبرپختونخوا:پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں میں جھڑپیں‘5زخمی‘50گرفتار

  باڑہ بازار کے داخلی و خارجی راستے سیل ،کنٹرول پولیس نے سنبھال لیا ،بھاری نفری تعینات 
 پولیس کی جانب سے براہِ راست فائرنگ کے الزامات کو بے بنیاد  ہیں:مشیر اطلاعات ثمرہارون بلور
پشاور (آئی این پی )خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے  بعدپی ٹی آئی کے حامیوں کے ساتھ جھڑپوں کے واقعات میں پولیس نے تقریبا 50 افراد کو گرفتار کرکے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت چار مقدمات بھی درج کر  لئے ۔خیبر پختونخوا کے گورنر کی مشیر برائے اطلاعات ثمر ہارون بلور کا کہنا ہے کہ پولیس نے ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے واقعات پر محتاط اور متناسب انداز میں ردعمل دیا، پولیس کی جانب سے براہِ راست فائرنگ کے الزامات کو بے بنیاد اور لغو ہیں۔رپورٹس کے مطابق پشاور کے ضلع    باڑہ بازار کے داخلی و خارجی راستے سیل کر دئیے گئے باڑہ بازار کا کنٹرول پولیس نے سنبھال لیا۔ ڈی ایس پی خزانہ احسان خان نے ایک بیان میں کہاہے کہ باڑہ بازار میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے جبکہ سکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت کردیئے گئے   ‘گورنر کے پی  کی مشیر برائے اطلاعات ثمر ہارون بلور  نے پولیس کی جانب سے براہِ راست فائرنگ کے الزامات کو بے بنیاد اور لغو قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ الزامات سوشل میڈیا کے گمنام اکائونٹس کے ذریعے پھیلائے گئے، جن پر مصنوعی ذہانت( اے آئی)) سے تیار کردہ ویڈیوز شیئر کی گئیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے عہدیداروں نے دعوی کیا کہ جھڑپوں کے دوران پانچ افراد زخمی ہوئے، سب سے سنگین واقعہ خیبر کے ضلع باڑہ میں پیش آیا۔