فرانس، اٹلی، البانیہ، پرتگال میں مظاہرے‘املاک کو نقصان‘پولیس سے جھڑپیں‘سینکڑوں گرفتار

 اٹلی کے شہر میلان میں  مہنگائی اور جنگ کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہرے پرتشدد ہو گئے‘مظاہرین کی دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار 
فرانس میں پرتشدد مظاہروں کے دوران نقاب پوش افراد نے ایپل، ہرمیس اور لوئی وٹون سمیت کئی مشہور لگژری برانڈز کے سٹورز میں گھس کرلوٹ مار کی
پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک) بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے، اسکولوں کے مسائل اور ہاؤسنگ بحران کے خلاف یورپ کے مختلف ممالک میں شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے شدت اختیار کر لی ہے، جس کے نتیجے میں فرانس، اٹلی اور البانیہ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ملک میں پرتشدد مظاہروں کے بعد وزیر داخلہ لوراں نونیز کا استعفیٰ دینے کی پیشکش مسترد کردی ہے۔دوسری جانب البانیہ میں بھی حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جہاں طلباء￿  اور شہریوں نے وزیراعظم ایڈی راما کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر احتجاج کیا۔دارالحکومت ترانا میں مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا، پیٹرول بم اور آتش بازی کا استعمال کیا جبکہ متعدد سرکاری عمارتوں اور بینکوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔البانوی پولیس نے صورت حال پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا اور سیکڑوں افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کر کے درجنوں مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ وزیراعظم ایڈی راما نے استعفیٰ دینے سے صاف انکار کرتے ہوئے اپوزیشن پر کشیدگی کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ اٹلی کے شہر میلان میں بھی مہنگائی اور جنگ کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہرے پرتشدد شکل اختیار کر گئے۔مظاہرین نے دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر پتھراؤ کیا۔اطالوی پولیس نے پرتشدد کارروائیوں میں ملوث درجنوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا، جن میں متعدد نابالغ افراد بھی شامل ہیں۔  فرانس میں پرتشدد مظاہروں کے دوران نقاب پوش افراد نے ایپل، ہرمیس اور لوئی وٹون سمیت کئی مشہور لگژری برانڈز کے اسٹورز میں گھس کر توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی۔