اس وقت لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کرچکی ہے، جس کے نتیجے میں دونوں طرف سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
لبنان سے اسرائیل پر راکٹ حملے:
لبنان کی شیعہ مسلح تنظیم حزب اللہ نے اسرائیل پر 250 راکٹ داغے ہیں، جس سے اسرائیلی شہر تل ابیب میں شدید نقصان ہوا ہے۔ ان حملوں میں 6 اسرائیلی شہری زخمی ہوئے ہیں، جبکہ متعدد گاڑیوں اور ایک فیکٹری کو نقصان پہنچا ہے۔ حزب اللہ کے مطابق یہ حملے اسرائیل کی جانب سے لبنان پر مسلسل فضائی حملوں کا جواب ہیں۔
لبنان میں اسرائیلی بمباری:
اسرائیلی فوج کی بمباری کے نتیجے میں لبنان میں ایک ہی دن میں 84 افراد شہید ہوگئے ہیں۔ یہ حملے 2014 کے بعد سے اسرائیل کے لبنان پر سب سے شدید فضائی حملے ہیں۔ لبنان کے حکومتی ذرائع کے مطابق، اسرائیلی فوج نے لبنان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں متعدد فضائی حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں درجنوں شہری شہید ہوئے ہیں۔
اسرائیلی حکومت کا ہارٹز اخبار کے اشتہارات پر پابندی:
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکومت نے اپنے اخبار "ہارٹز" پر کڑی تنقید کا سامنا کرنے کے بعد اس کے تمام اشتہارات بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ "ہارٹز" اخبار اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت پر سخت تنقید کرتا رہا ہے اور اس پر متنازعہ پالیسیوں کے حوالے سے رپورٹس شائع کرتا رہا ہے۔
حزب اللہ کی ڈرون حملے کی کارروائیاں:
حزب اللہ نے اسرائیل کے اشدود بحری اڈے پر ڈرون حملے کی بھی ذمہ داری قبول کی ہے، تاہم اس حملے کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی تفصیلات ابھی تک واضح نہیں ہو سکیں۔
لبنان میں فوجی چیک پوسٹ پر حملے اور ہلاکتیں:
اسرائیلی فوج نے لبنان پر حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے، جس کے دوران لبنان کی فوجی چیک پوسٹ پر حملے میں دو لبنانی فوجی بھی شہید ہوگئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اس کارروائی کو اپنے دفاع میں کیا قرار دیا ہے۔
غزہ میں اسرائیلی بمباری:
غزہ میں اسرائیلی بمباری کا سلسلہ بھی جاری ہے جس میں مزید 40 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔ حماس نے اسرائیلی فوجی گاڑی پر راکٹ حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد اسرائیلی فوجی ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
مجموعی صورتحال:
گزشتہ اکتوبر سے اسرائیل کی لبنان اور غزہ پر فضائی حملے شدت اختیار کرچکے ہیں، جس سے اب تک لبنان میں 3,754 افراد کی شہادت کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیلی حکام نے ان حملوں کو اپنے دفاع میں ضروری قرار دیا ہے، جبکہ حزب اللہ اور فلسطینی گروپوں نے اسرائیل کے حملوں کا بھرپور جواب دینے کا عہد کیا ہے۔