(پی ٹی آئی احتجاج) اسلام آبادمکمل سیل(راولپنڈی سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں پولیس کیساتھ تصادم ،5ارکان اسمبلی سمیت سیکڑوں کارکن گرفتار )
عمران خان کی رہائی کی تحریک کا آغاز ہو گیا،جتنے بھی راستے بند کریں ہم کھولیں گے، مطالبات کی منظوری تک ڈی چوک پر بیٹھیں گے:وزیراعلیٰ ـعلی امین گنڈاپور
جڑواں شہروں میں انٹرنیٹ بند ،چمن میں ہائی وے این 50اور این 70کو بھی ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا ، لاہور، پنڈی، پشاور کے درمیان ٹرین سروس بند،اسلام آباد پولیس کا سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن ، 300سے زائد پی ٹی آئی کارکنان گرفتا رکرلیے گئے
ایم پی اے بشارت ڈوگرکوسرگودھاروڈ سے ،ایم این اے رائے حسن نوازکو چیچہ وطنی بائی پاس سے حراست میں لیا گیا، ملتان سے گرفتارکیے گئے ارکان اسمبلی میں زین قریشی،عامر ڈوگر، معین ریاض قریشی شامل،ایم این اے خرم شہزاد ورک کی رہائش گاہ پر چھاپہ
لاہور؍ راولپنڈی؍اسلام آباد؍ شیخورہ؍فیصل آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ؍آئی این پی؍آن لائن ) راولپنڈی سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں پولیس کے کریک ڈائون اور پی ٹی آئی کارکنوں اور پولیس میں جھڑپوں کے دوران سیکڑوں افراد کو گرفتار کرلیا گیا ،راولپنڈی میں فیض آباد انٹرچینج سے پی ٹی آئی کارکنو ں کے علاوہ 2سرکاری ملازم بھی گرفتار کرلیے گئے ۔تفصیل کے مطابق راولپنڈی میں فیض آباد انٹرچینج سے 2سرکاری ملازمین سمیت 10پی ٹی آئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا جن میں 2سرکاری ملازم تھے تاہم سروس کارڈ دکھانے پر سرکاری ملازمین کو جانے دیا گیا۔راولپنڈی میں مری روڈ فیض آباد سے چاندنی چوک تک بندرہی،اسلام آباد اورراولپنڈی آنے اور جانے والے راستے مکمل بندرہے،کشمیر چوک سے ڈی چوک آنے والے راستے بھی ٹریفک کیلئے بند رہے۔دوسری جانب اسلام آباد میں سیونتھ ایونیو فلائی اوور، سری نگرہائی وے پل پر پولیس کی بڑی نفری تعینات رہی،سیونتھ ایونیو فلائی اوور پر قیدیوں کیلئے گاڑیاں بھی پہنچا دی گئیں۔ پولیس کے مطابق شیخوپورہ روڈ تتلے عالی چوک میں پی ٹی آئی کے کارکنوں اور پولیس میں جھڑپ ہوئی۔ سینٹرل پنجاب کے صدر و سابق رکن قومی اسمبلی بلال اعجاز اور پی پی 68 کے میاں ارقم کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی، پی ٹی آئی کے کارکنوں نے مداخلت کرکے دونوں رہنمائوں کو پولیس سے چھڑوا لیا۔ادھرفیصل آباد کے سرگودھا روڈ پر پی ٹی آئی کے ایم پی اے بشارت ڈوگر کو حراست میں لے لیا گیا۔ غلام محمد آباد میں دفعہ 144کی خلاف ورزی پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو بسوں میں سوار پی ٹی آئی کے 32کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا،عبداللہ کالونی میں بھی پی ٹی آئی کے دو کارکنوں کو حراست میں لیا گیا،پولیس کے مطابق دفعہ 144کی خلاف ورزی پر پکڑے گئے افراد کی تعداد 490ہو گئی۔ذرائع کے مطابق صدر پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب احمد چٹھہ اور جنرل سیکرٹری بلال اعجاز روپوش ہیں۔دریں اثناء لاہور میں تحریک انصاف کے اسلام آباد احتجاج میں شرکت کیلئے جانے والے رہنما فرخ جاوید مون بھی پولیس کے ہتھے چڑھ گئے۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فروخ جاوید مون کو حراست میں لے لیا گیا،فروخ جاوید مون کارکنوں کے ہمراہ احتجاج کیلئے نکلے ،پولیس نے گرفتار کر لیا،فروخ جاوید مون کو پولیس نے جناح ہسپتال سے گرفتار کیا۔پولیس نے پی ٹی آئی انفارمیشن سیکرٹری حافظ ذیشان کو گرفتار کر لیا ہے، پولیس نے پی ٹی آئی کی خواتین کارکنوں بھی حراست میں لے لیاہے۔ پی ٹی آئی کے ایم این اے صدر ویسٹ پنجاب رائے حسن نواز اور 16 کارکنوں کو اسلام آباد روانگی کے دوران گرفتار کر لیا گیا اور وہاں پر موجود کارکنوں کو پر امن طور پر منتشر کر دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ ایم این اے رائے حسن نواز خان ایک قافلے کی صورت میں اپنی رہائش گاہ چچہ وطنی سے نکلے جب وہ بائی پاس کے قریب پہنچے وہاں پر موجود پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا، قافلے میں موجود مزید 16 کارکنوں کو بھی پولیس نے گرفتار کر کے مختلف مقامات پر پہنچا دیا ۔قبل ازیں ملتان سے پاکستان تحریک انصاف کے 3ارکان قومی اسمبلی گرفتار کر لیے گئے۔گرفتارکیے گئے ارکان میں زین قریشی،عامر ڈوگر، معین ریاض قریشی شامل ہیں، پی ٹی آئی کے تینوں رہنما احتجاج کے لئے ملتان سے اسلام آباد جارہے تھے ،تینوں ایم این ایز کو نقصان امن کے خطرے کے تحت نظر بندکیاگیا۔ احتجاج کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں داخلی اور خارجی راستے مکمل سیل جبکہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر جڑواں شہروں میں انٹرنیٹ سروس بند رہی ،اسلام آباد پولیس کے سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن کے دوران 300سے زائد پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتارکرلیا گیا ۔پی ٹی آئی احتجاج کے پیش نظر گلیات سے مری جانے والی مرکزی شاہراہ مری روڈ مکمل بند کردی گئی۔ملکہ کوہسار مری کا خیبرپختونخوا اور کشمیر سے زمینی راستہ منقطع ہوگیا ۔ مری کے مختلف داخلی اور خارجی راستوں پر کنٹینرز لگائے گئے۔انتظامیہ نے کشمیر اور کے پی کی رابطہ سڑکوں پر خندقیں کھود دیں جبکہ گھوڑا گلی کے مقام پر بھی مٹی ڈال کر سڑک بند کر دی گئی ۔ شاہراہوں،سڑکوں کی بندش سے اہل علاقہ کو شدید مشکلات کا سامنا رہا ۔اسلام آباد میں فیض آباد انٹرچینج، اڈیالہ جیل جانے والی سڑکیں، ایران ایونیو، مارگلہ روڈ اور مری روڈ فیض آباد پر کنٹینر لگا کر بند اور ریڈ زون کو مکمل سیل کردیا گیا۔علاوہ ازیں، شہر اقتدار میں پبلک ٹرانسپورٹ بند اور ہاسٹلز و گیسٹ ہائوسز خالی کروالیے گئے ، جب کہ میٹرو بس سروس، گرین لائن، بلیو لائن اور اورنج لائن سروس بھی مسلسل دوروز سے بند ہے۔بیلاروس کے صدرکی آمد کے موقع پر اسلام آباد کی خوبصورتی برقرار رکھنے کے لیے کنٹینرز کو کپڑوں سے ڈھانپ دیا گیا ۔پولیس ذرائع کے مطابق تھانہ کراچی کمپنی کی حدود میں آپریشن کے دوران 70 سے زائد پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتار کیا گیا۔ تھانہ کوہسار کی حدود سے 60 کے قریب گرفتاریاں ہوئیں۔تھانہ بارہ کہو کی حدود سے 20 اور تھانہ رمنا سے 25 پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتار کیا گیا۔ تھانہ لوئی بھیر کے علاقے سے35، تھانہ سنگجانی کی حدود سے 45 کے قریب افراد کی گرفتاری عمل میں آئی۔ جبکہ تھانہ ترنول کے علاقے سے 42 پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے کارکنان مختلف علاقوں سے جتھوں کی شکل میں اسلام آباد پہنچے تھے۔ ادھر پی ٹی آئی کے احتجاج کے باعث لاہور کے داخلی وخارجی راستے بھی سیل کردیے گئے، لاہور آنے اور جانے والی سڑکوں کو کنٹینرز لگا کربند کردیا گیا۔اسی طرح شیخوپورہ میں سابق صوبائی وزیر قانون ایم این اے خرم شہزاد ورک کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا۔ ذرائع کے مطابق ان کے بھتیجے اور دیگر 6 رشتہ داروں کو گرفتار کیا گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق لاہور کے علاقوں شاہدرہ، ملت پارک،گرین ٹائون، سول لائنز کے علاقوں میں چھاپے مار کر متعدد کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔ احتجاج کے پیش نظر صوبائی دارالحکومت لاہور اور گوجرانوالہ سمیت بڑے شہروں میں داخلی خارجی راستے سیل ہیں، لاہور میں داخلی اور خارجی راستے بند کرکے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔اسی طرح 6 موٹرویز کو تاحکم ثانی بند کیا گیا ، جبکہ صوبے میں 3 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ ہے، جس کے تحت جلسے، جلوسوں، ریلیوں اور دھرنوں پر پابندی ہے جبکہ اٹک خورد چیک پوسٹ پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کرکے مال بردار گاڑیوں کی پکڑدھکڑ کی گئی ۔دریائے جہلم کے تینوں پلوں پر کنٹینرز لگا دئیے گئے اور جہلم سے پنجاب جانے والے تینوں راستے بند رہے۔ لاہور اور فیصل آباد سے وفاقی دارالحکومت کو آنے والے تمام راستے بند رہے ۔ ادھر چمن میں بھی نیشنل ہائی وے این 50 اور این 70 کو بھی ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا ۔ علاوہ ازیں پاکستان ریلوے نے پی ٹی آئی احتجاج کے پیش نظر لاہور، راولپنڈی اور پشاور کے درمیان تمام ٹرینیں فوری بند کر دیں۔ریلوے سٹیشن پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی جبکہ ریلوے سٹیشن پر مسافروں کا داخلہ بھی مکمل بند کرکے سٹیشن سیل کر دیا گیا۔پی ٹی آئی احتجاج کے تناظر میں راولپنڈی کو کنٹینرز سٹی بنا دیا گیا، شہر کو مجموعی طور پر 70 مقامات سے سیل کیا گیا ہے اور 65 مقامات پر پولیس چوکیاں بھی قائم کی گئی ں،جہاں پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔لیاقت باغ چوک سے قبل موتی محل کے قریب بھی مری روڈ کنٹینرز لگا کر بند کر دیے گئے جبکہ اسلام آباد کو ملانے والے تمام راستے کورال، گلزار قاید، شکریال سمیت فیض آباد، پنڈورہ چونگی، کٹاریاںم چک مدد، پیر ودھائی اور موڑ وغیرہ بھی بند کر دیے گئے۔مری روڈ پر داخلے کے تمام راستے بند کر دیے گئے ۔فیض آباد میں تمام ہوٹلز اورکاروباری مراکز بند کر دیے گئے،راولپنڈی سے پشاور جانے والی شاہراہ پل پر دونوں جانب کنٹینرز لگا کر بند کر دی گئی۔کشمیر ہائی وے موٹر وے لنک روڈ پر کنٹینرز کھڑے کیے گئے۔ملتان سے پاکستان تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی عامر ڈوگر، زین قریشی اور ایم پی اے معین ریاض کو گرفتار کر لیا گیا ۔پولیس ذرائع کے مطابق ان ارکان کو ان کی اپنی درخواست پرحراست میں لیا گیا۔پولیس کے مطابق پی ٹی آئی کے تینوں رہنما احتجاج میں شرکت کے لیے اسلام آباد جا رہے تھے۔تینوں ایم این ایز کو نقص امن کے خطرے کے تحت نظر بند کردیا گیا ہے۔
دوسراانٹرو لیڈ
پشاور(آئی این پی ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ وفاقی اور پنجاب حکومت جتنے بھی راستے بند کرے ہم کھولیں گے،جتنا وقت لگ جائے ڈی چوک پہنچنا ہے۔وزیراعلیٰ نے پشاور ٹول پلازہ پہنچنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی رہائی کی تحریک کا آغاز ہو گیا ہے، عوام کا سمندر دیکھ لیں۔علی امین نے کہا کہ جتنے بھی راستے بند کریں ہم کھولیں گے، جتنا وقت لگ جائے ڈی چوک پہنچنا ہے، جتنا چاہے تشدد کرلیں عوام نکل چکے ہیں۔علی امین گنڈا پور کا کہا تھا کہ عمران خان کی رہائی سمیت تمام مطالبات کی منظوری تک ڈی چوک پر بیٹھیں گے۔ وزیراعلیٰ کے ترجمان کے مطابق کتنی ہی سڑکیں بلاک کی جائیں یا پھر کنٹینر لگائی جائیں، اسلام آباد پہنچ کر احتجاج کریں گے اور مطالبات منوائیں گے، راستے کھولنے کے لیے سرکاری نہیں پرائیوٹ مشینری ساتھ لے کر جائیں گے۔