پنجاب میں اونچے درجے کا سیلاب، کئی بند ٹوٹنے سے بستیاں ڈوب گئیں، لاکھوں افراد متاثر ‘ہزاروں ایکڑ پرفصلیں تباہ ، درجنوں دیہات کا زمینی راستہ منقطع

دریائے راوی میں شاہدرہ  پر اونچے درجے کا سیلاب ،دریائے چناب میں ہیڈ خانکی اور ہیڈ قادر آباد پر پانی کے بہائو میں کمی آنے لگی ، صورتحال  بدستور خطرناک ،دریائے ستلج پر گنڈا سنگھ والا کے مقام پر  غیر معمولی سیلاب  
چشتیاں میں پانی کے تیز بہا ئوکے باعث 6 حفاظتی بند ٹوٹ گئے،300 سے زائد دیہات زیر آب ،7 ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ  ‘حافظ آبا دمیں دریائے چناب  کا پانی ونیکے تارڑ میں داخل، زمینی رابطہ منقطع

متاثرہ علاقوں سے 2 لاکھ10ہزار افرادکو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ‘آئندہ دنوں میں دریائے ستلج کی قریبی آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ضرورت ہے :چیئرمین این ڈی ایم اے ‘آج سے بارشوں کا نیا سپیل

لاہور(آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد دریائے راوی، چناب اور ستلج میں شدید سیلابی صورتحال کے باعث تباہی مچ گئی،  پوری کی پوری بستیاں ڈوب گئیں، لاکھوں افراد متاثر ہوئے   اور 22 افراد جاں بحق جبکہ متعدد لاپتہ ہو گئے،تفصیل کے مطابق پنجاب کے بڑے دریائو ں سے پانی کناروں سے نکل کر آبادیوں میں داخل ہونے سے لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہو گئی ہے، 6 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں، سیکڑوں دیہات زیر آب آ چکے ہیں جبکہ بنیادی ڈھانچہ جات کے نقصانات کا اندازہ پانی اترنے کے بعد ہی ہو سکے گا۔ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے میڈیا بریفنگ میں  بتایا  کہ پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے 2 لاکھ10ہزار افرادکو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جس میں پاک فوج، رینجرز، ریسکیو 1122 اور  پی ڈی ایم اے پنجاب نے حصہ لیا۔انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں دریائے ستلج کی قریبی آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ضرورت ہے، فیلڈ مارشل کی ہدایات پر تمام متعلقہ فارمیشنز دیگر اداروں سے مل کر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ دریائے راوی میں شاہدرہ پر پانی میں اضافے کے بعد اونچے درجے کا سیلاب  ہے اور  پانی کا بہائو  ایک لاکھ 45 ہزار 160کیوسک ہو گیا  ہے۔ دریائے راوی نے نارنگ منڈی میں تباہی مچا دی، ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہو گئی، متعدد دیہات زیر آب آ گئے، کئی دیہات اور ڈیرہ جات کا زمینی راستہ منقطع ہو گیا‘دریائے راوی میں شرقپور کے مقام پر پانی کی سطح مزید بلند ہورہی ہے، راوی کا پانی کناروں سے نکل کر جنگل سے گزرتا ہوا حفاظتی بند کے ساتھ لگ گیا‘ تحصیل چشتیاں میں پانی کے تیز بہا ئوکی وجہ سے حفاظتی بند ٹوٹنے سے 300 سے زائد دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں، اور 7 ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔مقامی کسانوں نے 8 کلو میٹر لمبا ایک حفاظتی بند اپنی مدد آپ کے تحت تیار کیا ہے، کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ بند آخری سہارا ہے، اگر یہ ٹوٹا تو 20 ہزار گھر خطرے میں ہوں گے۔ حافظ آباد میں  دریائے چناب میں سیلاب دریائی پٹی سے نکل کر ونیکے تارڑ میں داخل ہوگیا۔علاقے کا حافظ آباد سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔پانی نے چاروں اطراف سے ونیکے تارڑ کوگھیرلیا۔حافظ آبادمیں دریائے چناب کا سیلابی ریلا ڈیڑھ سو سے زائد دیہات میں تباہی مچا رہا ہے،ملاحانوالہ گائوں میں زمیندار کے پچاس سے زائد مویشی،ٹریکٹر ٹرالیاں اور زرعی مشینری  پانی میں بہہ گئیں۔