تحریک انصاف لانگ مارچ پختونخوا کا پنجاب سے زمینی رابطہ منقطع
ادویات ،اشیائے خورونوش ، پٹرول کی فراہمی بند ،راولپنڈی، اٹک اور دیگر شہروں میں سکیورٹی ہائی الرٹ، گجرات ، جہلم ،وزیرآباد میں بھی راستے بند کرنے کی تیاریاں مکمل ،پکڑ دھکڑ بھی جاری ،بیسیوں گرفتار، رینجرز اور پولیس اپنے دفاع ، امن و امان کے قیام کیلئے ہر ضروری اور مناسب جوابی کارروائی کرے:نوٹیفکیشن
اسلام آباد، لاہور،گجرات،وزیرآباد (بیورو رپورٹ،مانیٹرنگ ڈیسک )حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے27ستمبر کے لانگ مارچ کو روکنے کیلئے اہم شاہراہوں، داخلی راستوں اور بڑے چوراہوں کو کنٹینرز رکھ کر بند کر دیا ہے جبکہ اسلام آباد میں آمدورفت کے رابطے مکمل منقطع کر دیئے گئے ہیں۔ ادھر وزارت داخلہ نے رینجرز کو تمام ضروری اقدامات کا اختیار دیدیا ہے۔ دوسری طرف ، گجرات، وزیرآباد، راہولی سمیت دیگر شہروں میں پی ٹی آئی رہنمائو ں اور کارکنوں کی پکڑ دھکڑ بھی جاری ہے،بیسیوں کو گرفتارکر لیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے ممکنہ احتجاج کیپیش نظر پنجاب حکومت نے پختونخو کو جانے والے راستے بند کر دیئے گئے ہیں۔ موٹروے، جی ٹی روڈ ، کوہاٹ میں خوشحال گڑھ، ڈی آئی خان، ہری پور اور گلیات میں بھی پنجاب کو جانے والے زمینی راستے کنٹینرز کھڑے کرکے راستے بند کر دیئے گئے ہیں۔ موٹرویز کوبھی بند کئے جانے کی وجہ سے پختونخوا کا پنجاب سے زمینی راستہ منقطع ہوگیا۔جس سے نہ صرف لوگوں کی آمد و رفت معطل ہو گئی جبکہ سبزیاں، ادویات اور اشیائے خوردونوش سمیت دیگر سامان کی ترسیل اورپٹرول کی فراہمی بند ہو چکی ۔مختلف اہم شاہراہوں، داخلی راستوں اور بڑے چوراہوں کو کنٹینرز سے بند کئے جانے کی وجہ سے لوگوں کی آمد و رفت کا سلسلہ بھی رک گیا ، بین الصوبائی گاڑیاں لاری اڈوں میں کھڑی ہوگئیں، پٹرول اور غذائی قلت کا بھی خدشہ ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو گڈز ٹرانسپورٹ کو اجازت دینی چاہئے تاکہ غذائی قلت کا سامنا نہ ہو۔ علاوہ ازیں اسلام آباد،راولپنڈی، اٹک، جہلم ، میانوالی ،گجرات سمیت دیگر شہروں میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔جی ٹی روڈ پر دو دریائوں چناب اور جہلم کے پْلوں کے اِردگرد سڑک کناروں پر کنٹینرز کھڑے کر دیئے گئے ہیں ان مقامات پر ریت اور مٹی سے بھری بوریاں بھی لائی جا رہی ہیں، جہلم میں دریائے جہلم پْل، منگلا پْل اور سوہاوہ سمیت لگ بھگ دس مقامات کے اِردگرد کنٹینرز رکھے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں گجرات کے اہم داخلی وخارجی راستوں شہبازپور پل، چناب پل ودیگرعلاقو ں میں کنٹینرز اورریت کی بوریاں پہنچاکر آمد ورفت کیلئے مکمل طورپربند کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں ،شہبازپورپل پرقبل ازوقت کنٹینررکھ دیئے گئے جس سے سیالکوٹ ایئرپورٹ جانیوالوں کوبھی شدید مشکلات کاسامنا ہے جبکہ سیالکوٹ لاہورموٹروے کی بندش سے نظام زندگی مکمل طورپرمفلوج ہوکررہ گیا ،لاہوراسلام آباد موٹروے پہلے ہی ٹریفک کیلئے مکمل بند ہے۔دوسری طرف گجرات میں پی ٹی آئی رہنمائو ں وکارکنان کی پکڑ دھکڑبھی جاری ہے ،گجرات انتظامیہ بڑی ٹرانسپورٹ گاڑیوں کو بھی پکڑ رہی ہے ۔ جہلم میں بھی پی ٹی آئی کارکنوں کے گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے، اب تک 80 کارکنان کو گرفتار کیا جا چکا اور 60 کارکنان کو تھری ایم پی او کے تحت ڈسٹرکٹ جیل میں بند کردیا گیا ہے۔ اسی طرح راہوالی میں بھی گرفتاریوں جاری ہیں ،عثمان لغاری ،عمر الیاس چیمہ ،سبحان استخار ڈھانجہ کو گرفتارکرلیا گیا جبکہ مرکزی دفتر پی پی59 اورآصف فلو مل کو سیل کردیا گیا ، متعدد کارکن گرفتاری سے بچنے کیلئے رو پوش ہو گئے۔ وزیرآباد اور گردونواح میں بھی نالہ پلکھو پل ، خانکی بیراج اورچناب ٹول پلازہ کے قریب کنٹینرز رکھ دیئے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ وزیرآباد اور گوجرانوالہ سے تقریباً 2 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار اسلام آباد پہنچ چکے جبکہ پولیس کی بھاری نفری دریائے چناب، نالہ پلکھو اور خانکی بیراج کے قریبی علاقوں میں موجود ہے اسلام آباد ،راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی تعیناتی کی منظوری کا نوٹیفکیشن وزارت داخلہ نے جاری کر دیا ہے،وزارت داخلہ نے چیف کمشنر اسلام آباد اور حکومت پنجاب کی درخواست پر رینجرز کی تعیناتی اور رینجرز کو قانونی اختیارات کے تحت مکمل معاونت کی اجازت دی ہے۔ وزارت داخلہ کے اعلامیے کے مطابق رینجرز کی تعیناتی پاکستان رینجرز آرڈیننس 1959ء کی دفعات 7(b)اور 10 جبکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء کی دفعات 4 اور 5 کے تحت کی گئی ہے۔نوٹیفکیشن میں رینجرز اور پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ مسلح جتھوں کی جانب سے حملے کی صورت میں اپنے دفاع اور امن و امان کے قیام کیلئے قانون کے مطابق ہر ضروری اور مناسب جوابی کارروائی کی جائے۔وزارت داخلہ نے رینجرز اور پولیس کو کسی بھی پرتشدد سرگرمی یا ممکنہ خطرے سے مئوثر انداز میں نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔تعینات رینجرز اہلکار امن و امان برقرار رکھنے، سکیورٹی فراہم کرنے اور پولیس و انتظامیہ کی معاونت سمیت تفویض کردہ تمام ضروری ذمہ داریاں انجام دیں گے۔