کیف میں رات بھر جاری رہنے والے بڑے میزائل حملوں میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے، جب کہ روس نے اس کارروائی میں ہائپرسونک “اوریشنک” میزائل استعمال کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق حملوں کے دوران شہر بھر میں زور دار دھماکے سنے گئے، جس کے بعد شہریوں نے جان بچانے کے لیے زیرِ زمین میٹرو اسٹیشنز میں پناہ لی۔حملوں کے نتیجے میں رہائشی عمارتوں سمیت متعدد اسکول، یونیورسٹیاں، عجائب گھر، تھیٹر، مارکیٹس اور شاپنگ سینٹرز کو شدید نقصان پہنچا۔ کئی عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئیں جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں آگ بھی بھڑک اٹھی۔یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے حملے کو “انتہائی پاگل پن پر مبنی کارروائی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہری انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ملک کو فوری طور پر مزید فضائی دفاعی نظام کی ضرورت ہے۔دوسری جانب روسی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں جوہری صلاحیت رکھنے والا ہائپرسونک “اوریشنک” میزائل استعمال کیا گیا، تاہم ماسکو نے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے یوکرینی فوجی اور انٹیلی جنس مراکز پر کیے گئے۔
رپورٹس کے مطابق حملوں سے تقریباً 30 عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوئیں، جبکہ یوکرین کی کابینہ اور وزارت خارجہ کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔مزید بتایا گیا ہے کہ قومی آرٹ میوزیم، فلہارمونک ہال اور 1986 کے چرنوبل حادثے کی یادگار سے متعلق ایک میوزیم بھی متاثر ہوا، جو مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔حملوں کے دوران مختلف ممالک کے سفارتی و میڈیا دفاتر بھی متاثر ہوئے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کے دفاتر کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔کیف کے علاوہ خارکیف، چرکاسی اور دنیپروپیٹروسک سمیت دیگر علاقوں میں بھی میزائل حملوں کی اطلاعات ہیں جہاں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔