روسی فوج نے تین روزہ وقفے کے بعد یوکرین کے دارالحکومت کیف پر دوبارہ بڑے پیمانے پر فضائی حملہ کیا ہے، جس میں کم از کم 5 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہوگئے۔
یہ حملہ میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیا گیا، اور اس کے نتیجے میں شہر کے مختلف علاقوں میں آگ لگ گئی، اور متعدد عمارتیں، ہاسٹل، اسکول، کلینک اور گوداموں کو نقصان پہنچا ہے۔حکام کے مطابق، ایک روسی ڈرون نے یوکرینی ٹی وی چینل کی عمارت کو بھی جزوی طور پر تباہ کیا۔ حملوں کے دوران کیف کے مختلف علاقوں میں تباہی کا منظر دیکھنے میں آیا، اور شہریوں کو حفاظتی اقدامات اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا۔ دوسری طرف، یوکرین کی فضائیہ کے مطابق، ان کے فضائی دفاعی نظام نے تقریباً تمام کروز میزائلوں اور دو بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا، جس سے کچھ حد تک نقصان کم ہوا۔اس حملے کے بعد، شمالی علاقے سومی میں بھی ایک ٹرین کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مسافر محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے۔
یہ حملہ، امریکی امن مذاکرات کار جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف کے کیف سے روانہ ہونے کے بعد کیا گیا، جنہوں نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے بات چیت کی تھی۔تازہ حملے اس امید کو ٹھیس پہنچاتے ہیں کہ تین روزہ وقفہ کشیدگی میں کمی کا باعث بنے گا۔ اس سے قبل، روس اور یوکرین کے دارالحکومتوں پر حملوں کے دوران عارضی سیز فائر کیا گیا تھا، لیکن تازہ حملے نے جنگ بندی کی کوششوں کو ایک اور دھچکا پہنچایا ہے۔ عالمی برادری اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور امن کے لیے کوششیں جاری ہیں۔