بنگلادیش نے پاسپورٹ پالیسی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے ایک بار پھر “سوائے اسرائیل” کی عبارت شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بنگلادیشی وزارتِ داخلہ کے مطابق جنرل پاسپورٹس پر دوبارہ یہ جملہ درج کیا جائے گا کہ:“یہ پاسپورٹ دنیا کے تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے، سوائے اسرائیل کے۔”یہ فیصلہ ملک کی روایتی خارجہ پالیسی اور فلسطین کے حق میں عوامی جذبات کے مطابق کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس سے قبل 2021 میں ای پاسپورٹ نظام کے آغاز کے دوران یہ عبارت ہٹا دی گئی تھی، جس پر عوامی سطح پر شدید تنقید سامنے آئی تھی۔اب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سفارتی پاسپورٹس میں یہ تبدیلی پہلے ہی نافذ کی جا چکی ہے جبکہ عام پاسپورٹس میں بھی اس پر عملدرآمد شروع کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے وزارت داخلہ اور امیگریشن حکام کو ہدایات جاری کی گئی تھیں۔
مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاسپورٹ ڈیزائن میں دیگر تبدیلیاں بھی زیر غور ہیں، جن میں واٹر مارک اور تصاویر کی تبدیلی شامل ہے۔ نئی تجاویز کے مطابق کچھ علامتی تصاویر کو شامل یا ہٹانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جو ملک کی حالیہ سیاسی اور سماجی تحریکوں کی عکاسی کرتی ہیں۔بنگلادیش کے اسرائیل کے ساتھ نہ تو ماضی میں سفارتی تعلقات رہے ہیں اور نہ ہی اس وقت کوئی باضابطہ تعلق موجود ہے، اسی لیے یہ شق طویل عرصے سے اس کی پاسپورٹ پالیسی کا حصہ رہی ہے۔