چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ سائلین کو نظام انصاف کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے اور ان کے ساتھ عزت و وقار کے ساتھ پیش آنا ضروری ہے۔
ان کا یہ بیان اسلام آباد میں مختلف شعبہ جات کے سربراہان کے ساتھ منعقد ہونے والے ایک مشاورتی اجلاس میں آیا، جس میں سپریم کورٹ کے رجسٹرار محمد سلیم خان، ڈائریکٹر جنرل فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی، اور سیکرٹری قانون و انصاف کمیشن سیدہ تنزیلہ صباحت نے شرکت کی۔اجلاس کا مقصد عدالتی اصلاحات کا جائزہ لینا تھا۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے عدالتی طریقہ کار کی ڈیجیٹلائزیشن، عوامی رسائی، احتساب، اور شفافیت کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اصلاحات کا مقصد صرف مقدمات کا بوجھ کم کرنا نہیں، بلکہ سائلین کو مؤثر اور بروقت انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ سائلین انصاف کے نظام کے بنیادی اسٹیک ہولڈرز ہیں، اور ان کے ساتھ حسن سلوک اور عزت کے ساتھ پیش آنا عدلیہ کی انصاف سے وابستگی اور عوامی تاثر کو مستحکم کرتا ہے۔اجلاس میں اب تک حاصل کیے گئے اہم اہداف پر روشنی ڈالی گئی، اور ای فائلنگ نظام کے کامیاب نفاذ کا جائزہ بھی لیا گیا۔ اجلاس کے دوران آئی ٹی ڈائریکٹوریٹ نے عدالتی عمل کو مزید شفاف اور قابل رسائی بنانے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے استعمال اور نئے میکانزم کے قیام پر پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی۔