لاہور:وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی حالیہ پریس کانفرنس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مراد علی شاہ کو سندھ کے بجائے پنجاب کے کسانوں کی فکر لاحق ہے، حالانکہ پنجاب میں کسانوں کے تحفظ اور ترقی کے لیے حکومت نے عملی اقدامات کیے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب کے وارث خود موجود ہیں، مراد علی شاہ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت خود 16 سال سے اقتدار میں ہے، اب اسے اپنی کارکردگی عوام کو بتانی چاہیے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ "کیا سندھ میں کاشتکار نہیں ہیں؟" اور کہا کہ مراد علی شاہ یہ بتائیں کہ "کیا سندھ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت مقرر کی ہے؟ کیا سندھ حکومت نے گندم کی خریداری شروع کر دی ہے؟"۔عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صرف ایک سال میں کسانوں کے لیے 110 ارب روپے کا تاریخی پیکیج دیا، جو کہ خود ایک سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے کسانوں کو کسان کارڈ، گرین ٹریکٹر، اور سپر سیڈر جیسے جدید سہولیات دی جا رہی ہیں تاکہ زراعت میں جدت آئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن کے لیے بھی اقدامات کیے گئے اور گندم پر صرف رواں سال 15 ارب روپے کا سبسڈی پیکیج دیا گیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس سال پنجاب میں ریکارڈ گندم کی پیداوار ہوئی ہے اور اگلے سال اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔عظمیٰ بخاری نے یہ بھی کہا کہ پنجاب کی تیزی سے ترقی اب دوسرے صوبوں کی حکومتوں کے لیے پریشانی کا باعث بن چکی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سندھ کی اہم سڑکیں بند کرنے والے مظاہرین کی پشت پناہی کر رہے ہیں، جو ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔انہوں نے آخر میں کہا، "مراد علی شاہ کو علی امین گنڈا پور سے مختلف نظر آنا چاہیے، نہ کہ ایسے اقدامات کی حمایت کریں جو عوام کے لیے تکلیف دہ ہوں۔"