پاکستان کے ابھرتے ہوئے مِسٹری اسپنر عثمان طارق کو 2026 کیریبین پریمیئر لیگ (سی پی ایل) کے لیے ایک بار پھر ٹرنباگو نائٹ رائیڈرز کے اسکواڈ میں شامل کر لیا گیا ہے۔
فرنچائز نے گزشتہ سیزن میں ان کی شاندار کارکردگی اور ٹیم کو ٹائٹل دلانے میں اہم کردار ادا کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر ان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔عثمان طارق نے گزشتہ ایڈیشن میں اپنی منفرد اسپن بولنگ سے مخالف بلے بازوں کو مشکلات میں ڈالے رکھا اور ٹرنباگو نائٹ رائیڈرز کی کامیابی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی مسلسل عمدہ کارکردگی کے باعث فرنچائز نے انہیں نئے سیزن کے لیے بھی برقرار رکھا ہے۔تاہم عثمان طارق اس وقت انگلینڈ میں جاری دی ہنڈریڈ ٹورنامنٹ میں برمنگھم فینکس کی نمائندگی کر رہے ہیں، جس کے باعث سی پی ایل کے تمام میچز میں ان کی دستیابی تاحال واضح نہیں ہے۔دوسری جانب گزشتہ سیزن کی رنر اپ ٹیم گیانا ایمیزون واریئرز نے اپنے اسکواڈ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے جنوبی افریقا کے تجربہ کار لیگ اسپنر عمران طاہر اور نیوزی لینڈ کے جارح مزاج آل راؤنڈر گلین فلپس کو شامل کر لیا ہے۔ انجری سے مکمل صحت یاب ہونے کے بعد گلین فلپس سی پی ایل میں واپسی کریں گے، جس سے ٹیم کی بیٹنگ، فیلڈنگ اور مجموعی توازن مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
ادھر سینٹ کٹس اینڈ نیوس پیٹریاٹس نے پاکستان کے فاسٹ بولر نسیم شاہ کو اپنی ٹیم میں شامل کیا ہے، جبکہ جمیکا کنگزمین نے ان کے چھوٹے بھائی حنین شاہ کو اسکواڈ کا حصہ بنایا ہے۔ اگر دونوں ٹیمیں ٹورنامنٹ کے دوران آمنے سامنے آئیں تو شائقین کو پہلی مرتبہ سی پی ایل میں شاہ برادران کے درمیان دلچسپ مقابلہ دیکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔رواں سیزن میں مختلف فرنچائزز کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں پر اعتماد اس بات کا عکاس ہے کہ عالمی ٹی20 لیگز میں پاکستانی کرکٹرز کی صلاحیتوں کو مسلسل سراہا جا رہا ہے۔ شائقین کو امید ہے کہ عثمان طارق، نسیم شاہ اور دیگر پاکستانی کھلاڑی سی پی ایل 2026 میں بھی اپنی ٹیموں کے لیے یادگار کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔