ایرانی شہروں پر حملے، 4 افراد جاں بحق،7زخمی تجارتی جہازوں کے نقصان کا ازالہ ایران کے منجمداثاثوں سے کیا جائیگا:ٹرمپ

ایران کا قشم جزیرے پر پرواز کرنیوالا طیارہ مار گرانے اور   ٹام ہاک میزائل  تباہ کرنے  کا دعوی ‘ کویت ،اردن اور بحرین میں امریکی اڈوں پر حملے
عارضی جنگ بندی میں دلچسپی نہیں‘ امریکہ کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں: ایران کے وزیر خارجہ کا کرغزستان میں خطاب
تہران، واشنگٹن(آئی این پی )امریکی فوج نے مسلسل 13 ویں رات  بھی ایران کے مختلف شہروں پر حملے کیے  جن میں  مواصلاتی نیٹ ورکس اور بحری عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کا دعوی  کیا گیا ہے، ان حملوں  میں  کم از کم چار افراد جاں بحق اور سات زخمی ہو گئے،اس طرح  امریکی فضائی حملوں کے دوبارہ آغاز کے بعد سے 55 افراد  جاںبحق  اور629 افراد زخمی ہو چکے  ہیں،جبکہ ایران نے  قشم جزیرے پر پرواز کرنیوالا طیارہ مار گرانے اور ایک  ٹام ہاک میزائل کو تباہ کرنے  کا دعوی کیا ہے اور جوابی کارروائی کے طورپر  کویت ،اردن اور بحرین میں  امریکی فوجی  اہداف پر  حملے  کئے گئے ہیں ‘ایران نے امریکی نئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دیں۔ امریکی جنگ بندی کی تجویز عراقی وزیراعظم علی زیدی نے پیش کی۔امریکی اخبار  نیویارک ٹائمز کے مطابق عراقی وزیراعظم علی زیدی نے گزشتہ روز ایران کا دورہ کیا  ، امریکی جنگ بندی کی تجویز عراقی وزیراعظم نے پیش کی تاہم ایران کا موقف ہے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم ہونے تک عارضی جنگ بندی میں دلچسپی نہ۔ عالمی میڈیا کے مطابق   ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا‘امریکہ کے صدر ٹرمپ نے کہا ہے  تجارتی جہازوں کے نقصان کی ادائیگی ایران کے منجمد اثاثوں سے کی جائے گی، تمام نقصانات ایرانی رقم سے پورے کیے جائیں گے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ  آج سے جہازوں، ان کے کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی قسم کے نقصان کا ازالہ امریکا کے زیرِ قبضہ اور کنٹرول میں موجود ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ نقصانات بہت زیادہ بھی ہو سکتے ہیں، تاہم ہمارا ماننا ہے کہ یہی منصفانہ اور عادلانہ اقدام ہے،  اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ۔