محمود اچکزئی نئی سیاسی تحریک کا اعلان سلمان اکرم
31جولائی، 1اگست کو اے پی سی،مسائل حل نہ کئے تو صورتحال کشیدہ ہوگی: اچکزئی،دس دس سال سزائیں انصاف کے تقاضوں کے سراسر خلاف: سلمان اکرم ،سلیمان اور قاسم کی پاکستان آمد اور قیام کی تفصیلات فوری نہیں بتا سکتے: علیمہ خان
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)اسلام آباد میں تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف کے قائدین نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک میں آئین و قانون کی بحالی، منصفانہ انتخابات اور عام آدمی کے حقوق کے تحفظ کیلئے نئی سیاسی تحریک کا اعلان کر دیا۔علیمہ خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے گنڈاپور، بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ کو بھرپور تحریک چلانے کی ہدایت کی پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے اعلان کیا کہ 31 جولائی اور 1 اگست کو ایک آل پارٹیز کانفرنس بلائی جا رہی ہے، جس میں ملک کی تمام جماعتوں کو دعوت دی جائے گی تاکہ ملکی حالات پر سنجیدہ غور کیا جا سکے، اگر ابھی مسائل کو حل نہ کیا گیا تو صورتحال مزید کشیدہ ہو جائے گی۔ محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ ملک کی تمام اپوزیشن جماعتیں ایک بڑے اتحاد کی طرف بڑھ رہی ہیں، اور یہ اتحاد کسی کھیل تماشے کیلئے نہیں بلکہ سنجیدہ قومی جدوجہد کیلئے بنایا جا رہا ہے۔محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ یہ اتحاد کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہا، لیکن ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں۔ہم ایک غیر جانبدار الیکشن کمیشن، آئین کی بالادستی، اور عام شہری کے بنیادی حقوق کی حفاظت کیلئے پرعزم ہیں۔ جس جماعت نے سب سے زیادہ ووٹ لیے، اسی کو انصاف سے محروم رکھا جا رہا ہے، اور بانی تحریک انصاف سے ملاقات کی اجازت بھی صرف مخصوص افراد کو دی جا رہی ہے، جب کہ ان کی بہنوں کو بھی ان سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔محمود اچکزئی نے کہا کہ ہم کسی ادارے کے مخالف نہیں، لیکن ہر شخص کو آئینی دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ نہ ہم گالی دے رہے، نہ ڈنڈا مار رہے ہیں، ہم آئین کی بات کر رہے ہیں۔پریس کانفرنس میں شریک پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ تحریک انصاف اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، لیکن صرف اس جماعت سے تعلق کی بنیاد پر اس کے رہنمائوں کو دس دس سال کی سزائیں دی جا رہی ہیں، جو انصاف کے تقاضوں کے سراسر خلاف ہے۔بانی پی ٹی آئی گزشتہ دو سال سے قید میں ہیں۔سلمان اکرم راجہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ فیئرٹرائل ہر پاکستانی کا آئینی حق ہے، اور بانی پی ٹی آئی سمیت تمام قیدیوں کو یہ سہولت مہیا کی جائے۔ سلمان اکرم راجہ نے اعلان کیا کہ 5 اگست کو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا، تاکہ قوم کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ آئین، انصاف اور جمہوریت کیلئے جدوجہد جاری رہے گی۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ قوم کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے، اور ہم یہ مذاق مزید برداشت نہیں کریں گے۔بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے گنڈاپور، بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ کو بھرپور تحریک چلانے کی ہدایت کی ہے اور اپنے وکیل سے کہا ہے کہ باہر جاکر بتائے کہ ان کے ساتھ غیرانسانی سلوک کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں ڈاکو ڈفر الائنس قائم ہے۔علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں تھی ہمیں گزشتہ رات 12 بجے سماعت کی اطلاع دی گئی، آج صرف دو وکلاء کو اندر جانے کی اجازت دی گئی، فیملی، وکلاء اور میڈیا کو آج اندر داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ ہم ساڑھے چارگھنٹے تک اڈیالہ جیل کے دروازے پر انتظار کرتے رہے۔ بانی نے کہا کہ انہیں 22 گھنٹے تک سیل میں رکھا جا رہا ہے، اخبار، کتابیں اور ٹی وی ان کا بند کر دیا گیا۔ بانی نے اپنے وکیل کو بتایا کہ انہیں آج ایک کتاب فراہم کی گئی ہے۔ بانی نے کہا ہے سلیمان اور قاسم ان کی اولاد ہے وہ اپنے باپ کیلئے آواز اٹھا رہے ہیں تو یہ انکا حق ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں بیٹوں کی بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے عدالت سے رجوع کر رہے ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ میں دونوں بیٹوں سے ملاقات کی پٹیشن دائر کر رہے ہیں۔وکلا نے کہا کہ دونوں بیٹوں کی پاکستان آمد اور ان کے قیام کی تفصیلات فوری نہیں بتا سکتے۔پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ توشہ خانہ ٹو کا ٹرائل کالعدم قرار دے دینا چاہئے، بند کمرے کا ٹرائل آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے، یہ صرف مفروضہ ہے کہ شاہ محمود قریشی پارٹی کو لیڈ کریں گے، پی ٹی آئی کا لیڈر صرف اور صرف عمران خان ہے۔سلمان اکرم راجہ کا مزید کہنا تھا کہ آئین کا تقاضا ہے ٹرائل اوپن ہو لیکن ٹرائل اندر ہو رہا ہے اور وکلاء کو باہر بٹھایا ہوا ہے۔اس موقع پر بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا ٹرائل میڈیا، فیملی اور وکلاء کے بغیر ہو، یہ ٹرائل غیر قانونی، غیر جمہوری عمل ہے۔علیمہ خان نے بھی اس موقع پر گفتگو میں کہا کہ توشہ خانہ ٹو ناجائز کیس ہے، ہمیں نہیں معلوم اندر کیا ہو رہا ہے، ہم اپنے بھائی کے ساتھ کھڑے ہیں، انہیں کس چیز کا خوف ہے، یہ صرف ٹکریں مار رہے ہیں، جب تک بانی کو رہائی نہیں ملتی ہم کھڑے رہیں گے یہ لوگ ہمیں ڈرا نہیں سکتے۔