سینٹ اجلاس: شیری رحمان کی پی ٹی آئی پر تنقید، شبلی فراز کا سخت جواب

سینٹ اجلاس: شیری رحمان کی پی ٹی آئی پر تنقید، شبلی فراز کا سخت جواب

سینیٹ کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کی شیری رحمان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے شبلی فراز کے درمیان جملوں کا تبادلہ ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے پر سیاسی تنقید کی۔

پیپلز پارٹی کی پارلیمانی لیڈر شیری رحمان نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسائل اور مشکلات کو گالی گلوچ کے بجائے خندہ پیشانی اور افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہیے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے لیڈر اسیری میں ہیں، آپ احتجاج کرسکتے ہیں، لیکن وہ تکبر میں مبتلا تھے اور دھمکیاں دیتے تھے، اس لیے انہیں اپنے تکبر پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے لیڈر سی کلاس جیل کی دھمکیاں دیتے تھے، تاہم انہیں جیل میں سی کلاس نہیں دی گئی۔ شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوری اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرے گی اور اگر پروڈکشن آرڈرز پر عمل نہ کیا جائے تو ہم اس کے خلاف ہیں۔اس کے جواب میں، پی ٹی آئی کے رہنما شبلی فراز نے کہا کہ سیاست میں جو عوام نے منتخب کیا ہے، انہیں حکمرانی کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ دھاندلی کرکے الیکشن میں ہار جانے والوں کو حکمرانی سونپ دی جائے۔

 شبلی فراز نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے اور سیاست کرتی ہے۔ انہوں نے شیری رحمان کی خواتین کے عالمی دن پر پیش کی گئی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اس قرارداد کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس میں سیاسی انتقامی کارروائی کا بھی ذکر کیا جائے۔ شبلی فراز نے مزید کہا کہ شیری رحمان جب اس تجویز پر ردعمل ظاہر نہ کر سکیں تو وہ چلی گئیں۔شبلی فراز نے اپنے خطاب میں یاسمین راشد کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ کینسر کے ساتھ دو سال سے قید میں ہیں اور مزاحمت کی علامت بن چکی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیری رحمان کی پیش کی گئی قرارداد عالمی سطح پر تو اہم ہو سکتی ہے لیکن زمین پر حقیقت مختلف ہے۔یہ بحث سینیٹ میں ایک زبردست سیاسی جملوں کے تبادلے کا باعث بنی، جس میں پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے مختلف نقطہ نظر سامنے آئے۔