پاکستان کے معروف یوٹیوبر ذوالقرنین سکندر کو ان کے بھائی کی شادی کے دوران پولیس کی جانب سے گرفتار کیا گیا، جس کے بعد وہ تقریباً 7 سے 8 گھنٹے تک حراست میں رہے۔
گرفتاری کی وجوہات
پولیس کے مطابق، ذوالقرنین کو اسلحے کی نمائش کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، اور ان پر جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا۔ تاہم، ضمانت کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔
ذوالقرنین کا مؤقف
رہائی کے بعد ذوالقرنین نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا:یہ گرفتاری بے بنیاد تھی اور ان کے خلاف جھوٹا ایف آئی آر درج کیا گیا ہے۔انہوں نے اس واقعے پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "اس ملک میں کچھ بھی ممکن ہے۔"مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا، "میں جلد ہی اس معاملے پر تفصیل سے بات کروں گا۔"
سوشل میڈیا پر ردعمل
ذوالقرنین کے مداحوں نے ان کے حق میں آواز بلند کی اور گرفتاری کو سازش قرار دیا۔کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ان کی شخصی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔مداحوں نے ان کی کامیابیوں اور سوشل میڈیا پر اثر و رسوخ کو سراہتے ہوئے کہا کہ کسی کی ترقی برداشت نہیں کی جا رہی۔
ذوالقرنین کی فین فالوئنگ
ٹک ٹاک: 17 ملین فالوورز
یوٹیوب: 2.18 ملین سبسکرائبرز
ذوالقرنین کے ویلاگز اور سوشل میڈیا سرگرمیاں ان کے فالوورز میں بے حد مقبول ہیں۔
نتیجہ
یہ واقعہ نہ صرف سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے بلکہ صارفین انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ذوالقرنین کے مداح اس کیس میں ان کے ساتھ کھڑے نظر آ رہے ہیں اور حقائق کے سامنے آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔