لاہور ہائیکورٹ میں بسنت کے دوران 17 افراد کے ہلاکتوں سے متعلق رپورٹ جمع کرادی گئی

لاہور ہائیکورٹ میں بسنت کے دوران 17 افراد کے ہلاکتوں سے متعلق رپورٹ جمع کرادی گئی

ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے بسنت تہوار کے دوران پیش آنے والے مختلف واقعات میں 17 افراد کی ہلاکت سے متعلق رپورٹ لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرا دی۔

 عدالت نے آئندہ سماعت پر درخواست گزار وکیل کو جواب لاجواب جمع کرانے کے لیے مہلت دے دی۔جسٹس ملک محمد اویس خالد نے جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی درخواست پر سماعت کی، جس دوران ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بسنت کے دوران ہلاکتیں کرنٹ لگنے، چھتوں اور درختوں سے گرنے کے باعث ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق 12 افراد چھت سے گر کر جبکہ 2 افراد درخت سے گرنے کے باعث جاں بحق ہوئے، جبکہ 3 افراد کرنٹ لگنے سے جان کی بازی ہار گئے۔

درخواست گزار وکیل اظہر صدیق نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈور پھرنے سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد ظاہر نہیں کی جا رہی اور زخمیوں سے متعلق بھی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔عدالت نے بسنت پر ہونے والے سرکاری اخراجات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیے اور درخواست گزار وکیل کو ہوم ڈیپارٹمنٹ کے جواب کی نقل فراہم کرنے کے بعد جواب لاجواب جمع کرانے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔