لاہور میں بسنت 2026 کے ممکنہ انعقاد کے پیشِ نظر پولیس نے ایک جامع سکیورٹی پلان تیار کر لیا ہے، جس کی چار صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ سی سی پی او لاہور کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرا دی گئی ہے۔
رپورٹ میں گزشتہ 10 برسوں کے ڈیٹا کی بنیاد پر بسنت کے دوران درپیش ممکنہ خطرات، حفاظتی خدشات اور ان سے نمٹنے کی حکمتِ عملی بیان کی گئی ہے۔پولیس رپورٹ کے مطابق بسنت کے موقع پر لاہور کو سکیورٹی کے اعتبار سے ریڈ، ییلو اور گرین زونز میں تقسیم کیا جائے گا، جبکہ پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ صرف کاٹن ڈور اور رجسٹرڈ پتنگوں کی اجازت ہوگی، جبکہ شیشہ، کیمیکل اور میٹل ڈور کے استعمال کے خلاف زیرو ٹالیرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔پولیس حکام کے مطابق ہر پتنگ اور ڈور کی کیو آر کوڈ کے ذریعے رجسٹریشن لازمی ہوگی۔ نگرانی کے لیے ڈرونز، سوشل میڈیا مانیٹرنگ اور جدید کنٹرول رومز کے ذریعے لمحہ بہ لمحہ صورتحال پر نظر رکھی جائے گی۔ چھتوں پر شراب نوشی، ہوائی فائرنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ موٹر سائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ اور سیفٹی وائرز کا استعمال لازمی ہوگا، جبکہ ریڈ زون میں اینٹینا کے بغیر موٹر سائیکل کے داخلے پر پابندی عائد کی جائے گی۔ بسنت کے دنوں میں شہریوں کی سہولت کے لیے 5 ہزار رکشے مفت فراہم کرنے کا بھی منصوبہ ہے، جبکہ ریسکیو اور ہیلتھ ٹیمیں مکمل طور پر الرٹ رہیں گی۔