لاہور ہائیکورٹ میں پتنگ بازی کیس کی سماعت، ہلاکتوں اور زخمیوں کی تفصیلات طلب، پولیس نے بڑے پیمانے پر کارروائی رپورٹ پیش کر دی
لاہور: لاہور ہائیکورٹ میں پتنگ بازی کے خلاف کارروائیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران پولیس نے عدالت کو تفصیلی رپورٹ پیش کرتے ہوئے مقدمات، گرفتار ملزمان اور قبضے میں لی گئی پتنگوں و ڈوروں کی مکمل تفصیلات فراہم کر دیں۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر بسنت کے دوران ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔سماعت کی صدارت جسٹس ملک محمد اویس خالد نے کی، جوڈیشل ایکٹو ازم پینل کی درخواست پر ہونے والی اس سماعت کے موقع پر ایس ایس پی توقیر نعیم سمیت دیگر پولیس افسران عدالت میں پیش ہوئے۔ سرکاری رپورٹ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل انوار حسین نے عدالت میں پیش کی۔
پولیس رپورٹ کی تفصیلات
پولیس رپورٹ کے مطابق یکم جنوری 2026 سے 8 فروری 2026 کے دوران ضلع لاہور میں کائٹ فلائنگ ایکٹ کے تحت مجموعی طور پر 1926 مقدمات درج کیے گئے۔ اس دوران 2030 افراد کو گرفتار کیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس عرصے کے دوران ایک لاکھ 5 ہزار 718 پتنگیں اور 2953 ڈوریں قبضے میں لی گئیں۔ یہ کارروائیاں بسنت سیزن کے دوران کی گئیں، جب پتنگ بازی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔مزید بتایا گیا کہ بسنت کے بعد 9 فروری سے 3 اپریل تک بھی کریک ڈاؤن جاری رہا، جس دوران 1255 مقدمات درج کیے گئے اور اتنے ہی ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ اس عرصے میں 2025 پتنگیں اور 809 ڈوریں بھی برآمد کی گئیں۔
عدالت کے ریمارکس اور ہدایات
درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے پولیس رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ بسنت کے دوران ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کی مکمل تفصیلات رپورٹ میں شامل نہیں کی گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس تہوار کے دوران متعدد شہری جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے، تاہم ان کا باقاعدہ ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔اس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ متعلقہ ادارے مکمل ڈیٹا جمع کر کے پیش کریں اور واضح کریں کہ بسنت کے دوران کتنے افراد جاں بحق اور کتنے زخمی ہوئے۔
مزید ہدایات اور آئندہ سماعت
عدالت نے ہوم ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ اس معاملے پر 28 اپریل کو اجلاس منعقد کیا جائے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ اجلاس میں لاء افسر شریک ہوں جبکہ درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق کو بھی اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے۔مزید برآں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفصیلی پیشرفت رپورٹ طلب کر لی ہے۔