واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور کے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کہا ہے کہ ان کی ٹیرف پالیسی نے پاک-بھارت سمیت کئی ممکنہ جنگوں کو روکا، اور مختلف ممالک کے باوجود امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھنے کی خواہش ظاہر کی۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی وزیر اعظم نے بھی مانا کہ اس نے 35 ملین لوگوں کی جانیں بچائی ہیں۔صدر ٹرمپ نے ایران کے بارے میں کہا کہ ملک ایسے میزائل بنا رہا ہے جو جلد امریکا تک پہنچ سکتے ہیں، تاہم امریکا سفارتکاری کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ برس امریکی حملوں نے ایران کے مبینہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو تباہ کر دیا، اور جنرل قاسم سلیمانی کو بھی ہلاک کیا گیا۔صدر ٹرمپ نے ٹیرف کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی سرحدیں اب محفوظ ہیں، غیر قانونی مہاجرین کو ملک سے نکالا جا رہا ہے اور حکومت نہیں چاہتی کہ وہ قیام کریں۔
معاشی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ افراطِ زر میں کمی آئی، انڈوں کی قیمتوں میں 60 فیصد کمی ہوئی اور 18 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کیے گئے۔انہوں نے سابق صدر جو بائیڈن کے دور حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا اب دنیا کا سب سے خوشحال اور پسندیدہ ملک بن چکا ہے۔خطاب کے دوران رکنِ کانگریس آل گرین اور الہان عمر نے احتجاج کیا اور بینر لہرانے کی کوشش کی، جس پر انہیں کانگریس کی عمارت سے باہر نکال دیا گیا۔خطاب میں کابینہ اراکین، کانگریس کے ارکان اور ان کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔