ایران نے خلیجی ثالثوں کے ذریعے جنگ بندی کی کوششیں شروع کر دیں، ٹرمپ کا نیوکلیئر ڈیل پر زور

 ایران نے خلیجی ثالثوں کے ذریعے جنگ بندی کی کوششیں شروع کر دیں، ٹرمپ کا نیوکلیئر ڈیل پر زور

اسرائیل اور ایران کے مابین چار دن سے جاری کشیدگی کے دوران خطے میں جنگ کے خطرات بڑھنے لگے ہیں، تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق ایران نے خلیجی ریاستوں کے ذریعے جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کی بحالی کی کوششوں کا آغاز کیا ہے۔

 ان کوششوں کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی جلد از جلد ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ طے پانے کی امید ظاہر کی ہے۔

  سفارتی رابطے، ثالثی کی کوششیں
ٹائمز آف اسرائیل اور وال اسٹریٹ جرنل سمیت متعدد بین الاقوامی ذرائع کے مطابق:ایران نے قطر، عمان اور سعودی عرب کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل کو پیغامات بھیجے ہیں۔ایران نے تجویز دی ہے کہ اگر اسرائیل حملے روک دے، تو وہ بھی کشیدگی کم کر کے جوہری مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے تیار ہے۔عمان، جو کہ ماضی میں بھی امریکہ-ایران کے درمیان بیک چینل مذاکرات کا ذریعہ رہا ہے، اس وقت جنگ بندی کی ایک باضابطہ تجویز کا مسودہ تیار کر رہا ہے۔
  عمان کی جنگ بندی تجویز کے نکات
علاقائی ذرائع کے مطابق عمان کے تیار کردہ مسودے میں:ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی 1 سے 3 سال تک روک دے،IAEA کو مکمل رسائی فراہم کی جائے،
افزودگی کی حد 3.67% تک ہو،بین الاقوامی یورینیم کنسورشیم کی شمولیت کی اجازت دی جائے۔ایرانی ذرائع نے کہا کہ اگر اسرائیل جنگ بندی پر رضامند ہوتا ہے، تو ایران اس معطل افزودگی اور بین الاقوامی نگرانی کی شرط پر تیار ہو سکتا ہے۔

  ٹرمپ کا سخت لیکن پرامید مؤقف
جی 7 سربراہی اجلاس کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا:“ایران یہ جنگ نہیں جیت رہا ہے... انہیں بات کرنی چاہیے، فوراً، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔”ٹرمپ کے مطابق ایران نے واشنگٹن کو پیغام دیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور جوہری مذاکرات کی بحالی کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ فوری جنگ بندی ہو جائے۔

  ایران: حملوں کے دوران مذاکرات نہیں
ایک عرب سفارتی اہلکار نے بتایا کہ:“ایران نے قطر اور عمان کو واضح طور پر بتا دیا ہے کہ وہ اس وقت تک مذاکرات میں سنجیدگی سے شامل نہیں ہو گا جب تک وہ اسرائیلی حملوں کا جواب نہ دے لے۔”اسی وجہ سے، ایران چاہتا ہے کہ امریکہ اسرائیل کو حملے روکنے پر مجبور کرے، تاکہ مذاکرات کے لیے ماحول سازگار بنایا جا سکے۔

  اسرائیل کا ردعمل اور مؤقف
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ:تہران سے پیغامات موصول ہوئے ہیں کہ اگر اسرائیل حملے روک دے تو ایران بھی رک جائے گا۔تاہم، سیاسی قیادت کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں کیا گیا۔ایک اسرائیلی اہلکار کے مطابق:"فوجی اہداف کی فہرست مکمل ہونے میں دو سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں، اگر اسے حکومتی، اقتصادی یا ایٹمی اہداف تک پھیلایا جائے تو وقت زیادہ لگے گا۔"وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے کہا:"اگر ایران اپنے نیوکلیئر پروگرام کو ختم کرنے کے مطالبات تسلیم کرتا ہے تو ہم اپنی مہم روکنے کے لیے تیار ہیں، ورنہ یہ جاری رہے گی جب تک ہم ان صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم نہ کر دیں۔"
  خطے کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ
عرب حکام نے امریکہ کو متنبہ کیا ہے کہ:اگر مذاکرات بحال نہ ہوئے تو خطہ مکمل جنگ کی طرف جا سکتا ہے،جس سے نہ صرف تیل کے ذخائر اور توانائی کا بنیادی ڈھانچہ متاثر ہو گا، بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی شدید خلل آ سکتا ہے۔
  دیگر بین الاقوامی کوششیں
ایران نے مبینہ طور پر ترکی سے بھی ٹرمپ پر اثرانداز ہونے کی اپیل کی ہے۔روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھی نیتن یاہو اور ٹرمپ دونوں سے رابطہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔
  نتیجہ: سفارت کاری اور جنگ کے درمیان کشمکش
موجودہ صورتحال میں ایک طرف ایران دفاعی ردعمل کے ساتھ ساتھ سفارت کاری کی بحالی پر زور دے رہا ہے، جبکہ اسرائیل مزید فوجی کارروائی اور دباؤ ڈال کر ایران کو جھکانے کے موڈ میں نظر آ رہا ہے۔خطہ اس وقت فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے — یا تو سفارتکاری فتح پائے گی یا پھر فوجی تصادم وسیع تر بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔