روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران میں دو نیوکلیئر پاور پلانٹس لگانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اگرچہ ایران کے لیے نئے جوہری ری ایکٹرز کی تعمیر میں تاخیر ہوئی ہے، مگر وہ مزید جوہری منصوبوں کے آغاز کے لیے تیار ہیں۔
پیوٹن نے کہا کہ اس معاہدے کے ذریعے دونوں ممالک ایک دوسرے کی فوجی خطرات کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوں گے اور اس سے پیدا ہونے والی مشکلات پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ روس اور ایران کے درمیان اس معاہدے میں سیکیورٹی سروسز، فوجی مشقیں اور افسران کی ٹریننگ میں تعاون شامل ہے، لیکن معاہدے کے تحت یہ طے پایا ہے کہ ایران یا روس پر حملہ آور کسی بھی ملک کو فوجی امداد فراہم نہیں کی جائے گی۔صدر پیوٹن نے اس موقع پر ایران کو یوکرین کی صورتحال پر مسلسل آگاہ رکھنے کا بھی وعدہ کیا۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ یوکرین کی جنگ مذاکرات کے ذریعے ختم ہوگی اور انہوں نے مذاکرات اور امن کے حصول کا خیرمقدم کیا۔