واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کے سینئر قونصلر برائے ٹریڈ اینڈ مینوفیکچرنگ پیٹر نوارو نے بھارت اور یوکرین کی پالیسیوں کو امریکا کی معاشی مشکلات کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کڑی نکتہ چینی کی ہے۔
بلومبرگ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں پیٹر نوارو نے کہا کہ امریکا کو ایک طرف بھارت کے بلند تجارتی ٹیرف اور دوسری جانب یوکرین جنگ کے اخراجات نے شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت روس سے تیل خرید کر دراصل یوکرین جنگ میں روس کو بالواسطہ مالی فائدہ پہنچا رہا ہے، جس کا نقصان براہِ راست امریکا کو ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی پالیسیوں کے نتیجے میں امریکی ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں، فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں اور آمدنی میں کمی ہو رہی ہے، جس کا بوجھ امریکی ٹیکس دہندگان پر پڑ رہا ہے۔یوکرین پر بات کرتے ہوئے نوارو نے کہا کہ یہ یورپی ملک مسلسل امریکا سے مزید مالی امداد کا مطالبہ کرتا ہے جس کے باعث امریکی صارفین، کاروبار اور محنت کش طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔
ان کے مطابق اس دباؤ نے امریکا کے مالی اور تجارتی نظام کو غیر متوازن کر دیا ہے۔پیٹر نوارو نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے اپنی تجارتی پالیسیوں میں اصلاحات نہ کیں تو عالمی سطح پر امن و استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ "روس-یوکرین اصل میں مودی کی جنگ ہے"، اور امریکا کو اس کے اثرات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔