اسلام آباد ہائی کورٹ کے کوریڈور میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ موجود شخص سے پولیس نے موبائل فون چھین کر ویڈیو ڈیلیٹ کروائی۔
پولیس نے فوری طور پر موبائل فون قبضے میں لے کر ویڈیو کو ڈیلیٹ کروایا۔ڈیلیٹ کرنے کے بعد موبائل فون متعلقہ شخص کو واپس کر دیا گیا۔واقعہ عدالت کے احاطے میں پیش آیا، جہاں عدالتی احکامات کے تحت موبائل فوٹیج بنانے پر پابندی ہے۔حکام کے مطابق یہ اقدام عدالتی احکامات کی تعمیل اور عدالت کے امن و وقار کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا۔یہ واقعہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ ہائی کورٹ کے اندر عدالتی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر فوری کارروائی کی جاتی ہے۔