چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کے ٹرانسفر کے معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک آئینی اقدام ہے اور اس سے وفاق کی علامت کے طور پر وفاقی عدالت کو بہتر نمائندگی ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی تعیناتی اور ٹرانسفر دونوں اہم اقدامات ہیں، جنہیں ایک دوسرے سے موازنہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ججز کی مختلف صوبوں سے منتقلی وفاق کی بہتر نمائندگی کے لیے ضروری ہے اور اس پر مزید ججز کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ججز کی تعیناتی اور ٹرانسفر الگ الگ معاملے ہیں اور ہر صوبے کے ججز کو انصاف کا بھرپور موقع ملنا چاہیے۔چیف جسٹس نے اپنے ویژن کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد سپریم کورٹ میں زیر التوا کیسز کا بیک لاگ ختم کرنا ہے اور اس کے لیے مزید ججز کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ججز کے درمیان کسی بھی تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں ججز سے ملاقاتیں کریں گے تاکہ ان کے درمیان بہتر تعاون قائم ہو سکے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ انہوں نے روزانہ 30 سے 40 کیسز کی سماعت کی ہے اور ان کے اختیارات کا استعمال بلا خوف و خطر کریں گے تاکہ عدلیہ کی کارکردگی بہتر ہو سکے۔