اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی اجازت دے دی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی اجازت دے دی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی جیل میں اپنی بیوی بشری بی بی اور سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتوں اور بیٹوں سے فون کال کی سہولت کے حوالے سے اہم فیصلے دیے ہیں۔

 چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں سماعت کے دوران عدالت نے جیل حکام کو ہدایت کی کہ عمران خان کو اپنے بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے اور انہیں ذاتی معالج سے علاج کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ بشری بی بی اور دیگر سیاسی رہنماؤں کو جیل میں ملاقات کرنے کی اجازت دی جائے۔ عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ حکم کے باوجود ان کی جیل میں ملاقات کی سہولتیں واپس لے لی گئی تھیں، تاہم حالیہ نوٹس کے بعد کچھ سہولتیں بحال کی گئی ہیں جیسے ٹی وی اور اخبار کی فراہمی، اور ہفتے میں دو دن ملاقات کی اجازت۔

چیف جسٹس نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ جیل میں ملاقات کی لسٹ کس کے ذریعے تیار کی جاتی ہے اور اس پروسیس کو کیسے چلایا جاتا ہے۔ اسسٹنٹ سپریٹنڈنٹ وقیع الزمان نے بتایا کہ عمران خان کے کوآرڈینیٹر ملاقات کے لیے نام دیتے ہیں، جس کے بعد بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کی جاتی ہے اور پھر ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے۔عدالت نے جیل حکام کو مزید ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ وہ سپریڈنٹ اڈیالہ سے مشاورت کر کے عمران خان کو ان کے بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی اجازت دیں اور اس سلسلے میں 27 جنوری تک رپورٹ جمع کرائیں۔