عمران خان کو ان کی رضامندی کے ساتھ پمز لایا گیا جہاں چار ماہر ڈاکٹروں نے چیک اپ کیا ، جو آئین و قانون کے تحت تھا‘ان کی صحت سے متعلق پریشانی کی بات نہیں
عمران خان سزا یافتہ قیدی ہیں اور یہ ممکن نہیں وہ سابق وزیر اعظم ہیں تو ان کا کیس پہلے سنا جائے، آئین تمام پاکستانیوں کو مساوی حقوق دیتا ہے:سینیٹ اجلاس میں بیان
اسلام آباد(آئی این پی ) وفاقی وزیر قانون اعظم سینیٹر نذیر تارڑ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ان کی رضامندی کے ساتھ پمز لایا گیا جہاں چار ماہر ڈاکٹروں نے کا چیک اپ کیا ہے، جو آئین و قانون کے حدود و قیود میں تھا اس کے مطابق عمران خان کا علاج جاری ہے، بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ذاتی معالج سے بات چیت کرکے ہی چار ماہر ڈاکٹروں کا انتخاب کیا گیا، ماہر امراض دل نے بھی عمران خان کا چیک اپ کیا ہے اور وہ درست ہیں۔سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر قانون کا کہنا تھا کہ رات گئے عمران خان کا پمز کے بورڈ نے دوبارہ چیک اپ کیا جس میں پروفیسر ندیم قریشی اور پروفیسر عارف نے مشاورت کی، رات کے وقت کا تعین سکیورٹی کو مدنظر رکھ کر کیا گیا اور عمران خان کو رات ساڑھے گیارہ بجے پمز لایا گیا، کوئی پریشانی یا ہیجان کی بات نہیں تھی، ان کی صحت سے متعلق کوئی پریشانی والی بات نہیں ہے، ان کی طبیعت بہت ٹھیک تھی اور یہ ان کی مرضی سے کیا گیا۔اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ آئین کسی قیدی کو اس کی مرضی سے چیک اپ کی اجازت نہیں دیتا، عمران خان کی صحت پہلے سے بہتر ہے اور پریس ریلیز بھی رات جاری کی گئی تاکہ ہیجانی کیفیت نہ پیدا ہو، تاہم عمران خان سزا یافتہ قیدی ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ چونکہ وہ سابق وزیر اعظم ہیں تو ان کا کیس پہلے سنا جائے، آئین تمام پاکستانیوں کو مساوی حقوق دیتا ہے اور باقی کیسز کے پیچھے رہنے کے باوجود کسی کا مقدمہ ترجیحی بنیاد پر نہیں ہو سکتا، تاہم عمران خان کو گھر یا ملک سے باہر بھیجنا ایگزیکٹو کا نہیں بلکہ عدلیہ کا اختیار ہے۔