جوڈیشل کمیشن میں پانچ ججوں میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے علاوہ دونوں عدالتوں کے سینیئر ترین جج شامل ہوں گے
آئینی عدالت میں تمام وفاقی اکائیوں اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی برابر کی نمائندگی ہو گی ‘آرمی چیف کی مدت ملازمت پر کسی بحث اور نوٹیفکیشن کی ضرورت نہیں
اسلام آباد (آئی این پی) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا۔اسپیکر ایاز صادق کی زیرِ صدارت ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا آئینی عدالت کا سوموٹو کا اختیار ختم کر دیا گیا ہے، آرمی چیف کی مدت ملازمت پر کسی بحث اور نوٹیفکیشن کی ضرورت نہیں ، مدت کا تعین قانون کے مطابق ہوچکا ہے۔منگل کو وفاقی وز یر قانون نے 27ویں آئینی ترمیم کا بل منظوری کے لئے یوان میں پیش کیا ۔اس موقع پراسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد ایوان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے میثاقِ جمہوریت میں عوام سے کیے گئے وعدوں میں کچھ ایڈجسمنٹ کی جس میں سے ایک بنیادی نکتہ آئینی عدالت کے قیام کے متعلق تھا۔انھوں نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے موقع پر آئینی عدالت کے بجائے آئینی بینچوں کی تشکیل پر اتفاق کیا اور پھر وہ ترمیم منظور ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد تنقید سامنے آئی کہ عدالت کے اندر ایک عدالت قائم کر دی گئی ہے، یہ نظام چلتا نظر نہیں آتا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کچھ اہم آئینی معاملات ایسے آئے جن پر عدالت کا 30 سے 40 فیصد وقت صرف ہو رہا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد حلیف جماعتوں سے مشاورت کے بعد وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ آئینی عدالت میں تمام وفاقی اکائیوں اور دارالحکومت اسلام آباد ہائی کورٹ کی برابر کی نمائندگی ہو گی۔