دوسرے ممالک اپنے شہریوں کی حفاظت کرتے ہیں‘ہم باہر بھجوانے میں جلدی کیوںکرتے ہیں: علی ظفر‘ایکٹ صرف ہمارے شہریوں پر نہیں ، دو طرفہ ہوتا ہے :اعظم نذیر تارڑ

سینیٹ اجلاس ملزموں کی حوالگی ‘شہریت ترمیمی بل منظور خاتون کو  سرعام برہنہ کرنے‘اغواء کار کو پناہ دینے پر سزائے موت ختم

خاتون پر مجرمانہ حملہ کرنے یا اسے سرعام برہنہ کرنے پر ملزم کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا جا سکے گا، جرم ناقابل ضمانت اور ناقابل مصالحت ہوگا ‘ مجرم کو عمر قید ، جائیداد کی ضبطی اور جرمانے کی سزا دی جا سکے گی
ہم عورت کو کمزور بنا رہے، یہ سزا باہر کے لوگوں کو خوش کرنے کیلئے کم کی جارہی ہے: ثمینہ ممتار‘ یہ کیسے سوچ لیا  سزا کی سنگینی جرم کو روکتی ہے، ہمارے پاس 100 جرائم میں سزائے موت ہے لیکن جرم کی شرح بڑھ رہی ہے:وزیرقانون

اسلام آباد(آن لائن‘آئی این پی) ایوان بالا نے حوالگی ملزمان اور پاکستان شہریت ترمیمی بلز منظور کرلئے‘حوالگی بل وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال  چودھری  نے پیش کیا ،وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بل کی وضاحت ایوان بالا میں پیش کردی۔جمعہ کو سینیٹ اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے قانون حوالگی ملزمان ایکٹ 1975میںمذید ترمیم کا بل پیش کیااس موقع پر سینیٹر علی ظفر نے کہاکہ دیگر ممالک کے قانون دیکھا ہے اس میں وہ اپنے شہریوں کی بہت زیادہ حفاظت کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ میرا سوال یہ ہے کہ ہم آسانی کیوں پیدا کرتے ہیں اور اس کو جلدی باہر کیوں  بھجوانے کی کوشش کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ اس قانون میں جو لکھا گیا ہے اس میں تصادم ہے اور اس حوال سے ایک جائنٹ سیکرٹری فیصلہ کریں گے کہ وہ باہر بھجوانے کا کہہ سکتے ہیں اس موقع پر وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ یہ ایکٹ صرف ہمارے شہریوں پر نہیں بلکہ دو طرفہ ہوتا ہے انہوں نے کہاکہ اس قانون کیلئے دونوں ممالک کے درمیاں معاہدہ ضروری ہے‘دریں اثناء ایوان بالا  میں  خاتون کو  اغوا یا سرعام برہنہ کرنے والے کو پناہ دینے پر سزائے موت ختم کرنے کا بل منظور کرلیا گیا ۔سینیٹ نے فوجداری قوانین میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظورکیا جس کے تحت خاتون کو اغوا یا سرعام برہنہ کرنے والے کو پناہ دینے پرسزائے موت ختم کردی جائے گی۔سینیٹ سے منظور ہونے والے  بل کے مطابق خاتون پر مجرمانہ حملہ کرنے یا اسے سرعام برہنہ کرنے پر ملزم کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا جا سکے گا، جرم ناقابل ضمانت اور ناقابل مصالحت ہوگا جب کہ مجرم کو عمر قید ، جائیداد کی ضبطی اور جرمانے کی سزا ہوگی۔اس حوالے سے سینیٹرعلی ظفر نے کہا کہ عورت کے کپڑے اتارنے پر سزائے موت برقرار رہنا چاہیے جب کہ سینیٹر ثمینہ ممتاز نے کہا کہ ہم عورت کو کمزور بنا رہے، یہ سزا باہر کے لوگوں کو خوش کرنے کیلئے کم کی جارہی ہے۔اس موقع  پر وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تاررڑ نے کہا   یہ کیسے سوچ لیا کہ سزا کی سنگینی جرم کو روکتی ہے، موت کی سزا دینے سے جرائم کم نہیں ہوں گے، ہمارے پاس 100 جرائم میں سزائے موت ہے لیکن جرم کی شرح بڑھ رہی ہے،  یورپ میں سزائے موت نہیں اور وہاں کرائم کم ہورہاہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پانی کے جھگڑوں پر مقدمہ بنا لیتے ہیں کہ عورت کے کپڑے اتارتے ہیں تاکہ اگلے کو سزا موت ہوجائے، شریعت کے مطابق 4 جرم کے علاوہ کسی جرم پر سزائے موت نہیں ہونی چاہیے۔