جرمنی کے سابق اسٹار فٹبالر میسوٹ اوزل نے سیاست میں قدم رکھتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان کی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (AKP) میں شمولیت اختیار کر لی۔
پارٹی میں شمولیت اور عہدہ
ترک حکمران جماعت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، 37 سالہ میسوٹ اوزل کو جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی سینٹرل کونسل کا ممبر منتخب کیا گیا ہے۔ اس اقدام کے بعد اوزل اب باضابطہ طور پر ترکی کی سیاست میں متحرک کردار ادا کریں گے۔
سیاست میں دلچسپی کا عندیہ
اوزل کی ترک صدر رجب طیب اردوان سے قریبی تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ وہ 2018 میں ترک انتخابات کے دوران بھی اردوان کے ساتھ نظر آئے تھے، جس پر انہیں جرمنی میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت سے ہی قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ اوزل مستقبل میں سیاست میں شامل ہو سکتے ہیں۔
فٹبال کیریئر
میسوٹ اوزل فٹبال کی دنیا میں ایک بڑا نام رہے ہیں، انہوں نے اسپین کے مشہور کلب ریال میڈرڈ اور انگلش کلب آرسنل کی نمائندگی کی۔ ان کا انٹرنیشنل فٹبال کیریئر بھی شاندار رہا:
2009 میں جرمنی کی قومی ٹیم میں ڈیبیو کیا۔
2014 میں جرمن ٹیم کے ہمراہ فیفا ورلڈ کپ جیتا۔
92 انٹرنیشنل میچز میں 30 گول اسکور کیے۔
2011، 2012، 2013 اور 2015 میں جرمنی کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا۔
ریٹائرمنٹ اور نسلی امتیاز کا مسئلہ
2018 میں اوزل نے انٹرنیشنل فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جرمنی میں انہیں ترک نژاد ہونے کی وجہ سے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنے طویل سوشل میڈیا بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ "جب میں جیتتا ہوں تو جرمن کہلاتا ہوں، لیکن جب ہارتا ہوں تو تارک وطن بن جاتا ہوں"۔
ترک نژاد پس منظر
میسوٹ اوزل 15 اکتوبر 1988 کو مغربی جرمنی کے ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان ترکی سے ہجرت کر کے جرمنی آیا تھا۔ اوزل کے والد پیشے کے لحاظ سے لوہار تھے، جبکہ اپنی جوانی میں وہ چکن پروڈکٹس فروخت کرتے تھے۔
نئے سیاسی سفر کی شروعات
میسوٹ اوزل کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی میں شمولیت کے بعد دیکھنا ہوگا کہ وہ ترک سیاست میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مداحوں کا ماننا ہے کہ وہ ترکی میں نوجوانوں کے لیے ایک متاثر کن شخصیت ثابت ہو سکتے ہیں۔