میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریڈ لائن منصوبے کو حکومت کے لیے باعث شرمندگی قرار دیا اور کہا کہ اس معاملے کو وہ بار بار حکومتی اراکین کے ساتھ بورڈ کی میٹنگ میں اٹھا چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرانس کراچی ایک آزاد کمپنی ہے جس کا وہ بورڈ کا رکن ہیں، اور منصوبہ بندی کے دوران واٹر بورڈ کو بھی شریک کیا جانا ضروری ہے۔انہوں نے کراچی کے پانی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شہر کو پانی کی کمی کا سامنا ہے، تاہم کچھ سیاسی جماعتوں کے لوگ سڑکوں پر پانی ضائع کر رہے ہیں اور ان کے دفتر کے پانی کے کنکشن بھی کاٹ دئیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی کی پانی کی ڈیمانڈ 1100 ملین گیلن ہے لیکن شہر کو صرف 525 ملین گیلن پانی مل رہا ہے۔
میئر کراچی نے شہر کی سڑکوں کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ کراچی میں 106 بڑی سڑکیں ہیں، اور ان کی تعمیر کے لیے وزیراعلیٰ سندھ سے فنڈز کی درخواست کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ایم سی نے یونیورسٹی روڈ کے علاوہ 80 فیصد سڑکوں پر کام مکمل کر لیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیک فرشتوں کے پاس 9 ٹاؤنز ہیں، اور اس ذمہ داری کو ٹاؤن چیئرمین کے ساتھ ہی حل کیا جانا چاہیے۔