ویب ڈیسک: بھارت کی جانب سے چھوڑے گئے بڑے سیلابی ریلے کے باعث دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ 22 ہزار 326 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں قریبی علاقے لکھا سلدیرا، رحیم شاہ اور گاہی شاہ پانی میں ڈوب گئے ہیں۔چشتیاں ساہوکا روڈ بھی سیلابی پانی کی زد میں آ گئی ہے جبکہ سیکڑوں گھرانے اور مویشی پانی میں گھر گئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور مویشیوں کی حفاظت کے لیے اقدامات جاری ہیں۔دریائے چناب میں بھی پانی کی صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ہیڈ مرالہ، خانکی اور قادر آباد بیراج پر آج اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ حکام نے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔
اسی طرح سندھ میں دریائے سندھ کے بیراج بھی دباؤ میں ہیں۔ گڈو بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب موجود ہے جہاں پانی کی آمد پانچ لاکھ 14 ہزار 800 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے۔ سکھر بیراج پر بھی درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور یہاں پانی کی آمد چار لاکھ 88 ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے۔دوسری جانب ملک کے دونوں بڑے ڈیم اپنی گنجائش کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ تربیلا ڈیم میں پانی کی گنجائش 1550 فٹ ہے اور موجودہ سطح 1549 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ منگلا ڈیم کی گنجائش 1242 فٹ اور موجودہ لیول 1220 فٹ تک پہنچ گیا ہے۔ حکام کے مطابق مزید بارشیں یا بھارت سے چھوڑے گئے پانی کے نئے ریلے ڈیموں اور نشیبی علاقوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔