سیلابی ریلے پنجاب سے سندھ میں داخل، دریائے سندھ اور دیگر دریاؤں میں پانی کی سطح بلند

سیلابی ریلے پنجاب سے سندھ میں داخل، دریائے سندھ اور دیگر دریاؤں میں پانی کی سطح بلند

ویب ڈیسک: پاکستان میں سیلابی صورتحال تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے۔

سیلابی ریلے پنجاب سے سندھ میں داخل ہو گئے، جس سے دریائے سندھ اور دیگر اہم دریاؤں میں پانی کی سطح مزید بلند ہو گئی ہے۔

ہیڈ پنجند: پانی کا بہاؤ بڑھ کر 4 لاکھ 75 ہزار کیوسک ہو گیا، جس کے نتیجے میں گڈو اور سکھر بیراج پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال ریکارڈ کی گئی۔ گڈو بیراج پر پانی کی آمد 4 لاکھ 43 ہزار کیوسک اور سکھر بیراج پر 3 لاکھ 85 ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی۔ بیراج کے تمام گیٹ کھول دیے گئے تاکہ پانی کا بہاؤ کم کیا جا سکے۔
ہیڈ گنڈا سنگھ: انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال رہی، پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 30 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ سیلابی ریلوں کے سبب بہاولپور میں تقریباً 100 بستیاں اور موضع جات زیرِ آب آ گئے اور سیکڑوں ایکڑ رقبے پر فصلیں دریا برد ہو گئیں۔
ستلج اور چناب: منچن آباد کے مقام پر ستلج سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا، 67 موضع جات، بستیاں اور رابطہ سڑکیں ڈوب گئیں، ہزاروں ایکڑ کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں۔ بہاولنگر میں بھکاں پتن پر اونچے درجے کا سیلاب اور اوچ شریف میں دریاؤں کے ریلوں سے درجنوں دیہات متاثر ہوئے۔
پاکپتن: بابا فرید پل کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 25 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جس سے علاقے میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔