بالائی علاقوں اور پنجاب میں مسلسل بارشوں کے باعث دریائے چناب میں اونچے درجے کا سیلابی ریلا داخل ہوگیا جس نے مظفرگڑھ کی تحصیلوں اور دیہات کو شدید متاثر کیا۔
سیلابی ریلے سے جتوئی اور علی پور کی تحصیلیں بری طرح زیر آب آگئیں، مختلف موضع جات اور شہر سلطان میں بھی پانی داخل ہوگیا۔ متاثرہ دیہات میں مکانات ڈوب گئے جبکہ زرعی زمینیں بھی تباہی کی لپیٹ میں آگئیں۔
ریسکیو آپریشن اور امدادی سرگرمیاں:
ڈی پی او مظفرگڑھ سید غضنر علی شاہ کے مطابق صورتحال قابو سے باہر ہونے پر پاک فوج کو ریسکیو آپریشن کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔ پنجاب پولیس، ریسکیو 1122 اور ضلعی ادارے بھی امدادی کارروائیوں میں شریک ہیں۔ریسکیو 1122 کی 32 بوٹس ریلیف آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں اور اب تک نشیبی علاقوں سے ہنگامی طور پر 4 ہزار 686 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔
حفاظتی بندوں کی نازک صورتحال:
دریائے چناب میں پانی کی سطح مسلسل بلند رہنے کے باعث حفاظتی بندوں کی حالت تشویشناک ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق اگر بارش کا سلسلہ جاری رہا تو مزید علاقے متاثر ہوسکتے ہیں۔ رات گئے سے وقفے وقفے سے بارش بھی جاری ہے جس نے خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
دیگر دریا بھی خطرے کی زد میں:
ادھر دریائے راوی اور دریائے ستلج میں بھی اونچے درجے کے سیلاب نے تباہی مچادی ہے۔ اوکاڑہ کے کئی دیہات سیلابی پانی کی زد میں آ گئے ہیں۔
اسکولوں میں چھٹیاں بڑھا دی گئیں:
سیلابی صورتحال کے پیش نظر اوکاڑہ کے متاثرہ 32 موضع جات میں تمام سرکاری و نجی اسکولوں کی چھٹیوں میں 8 سے 14 ستمبر تک توسیع کر دی گئی ہے۔محکمہ تعلیم کے مطابق یہ فیصلہ سیلاب ایمرجنسی اور طلبہ کی حفاظت کے پیش نظر کیا گیا ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔