پاکستان میں سیلابی ریلے شدید، دریائے چناب اور ستلج میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند

پاکستان میں سیلابی ریلے شدید، دریائے چناب اور ستلج میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند

ملتان اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جس کے باعث شدید سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

 جلالپور پیروالا میں حفاظتی سپر ڈائک ٹوٹنے کے بعد سیلابی پانی قریبی آبادیوں کی طرف بڑھ رہا ہے اور پولیس نے شہر بھر میں انخلاء کے اعلانات شروع کر دیے ہیں۔ملتان میں دریائے چناب کی سطح 394.50 فٹ تک بلند ہو گئی ہے، جس سے مختلف علاقوں میں نظام زندگی درہم برہم اور سینکڑوں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔ بھاری ٹریفک کو موٹر وے کے ذریعے متبادل راستے پر موڑ دیا گیا ہے۔ سیلابی پانی گگران کچور، مرزا پور اور حسن کچور میں داخل ہو چکا ہے۔بھوانہ میں درجنوں دیہات متاثر ہوئے اور قبرستان بھی زیر آب آئے، جبکہ احمدپور سیال میں غازی آباد کا گاؤں مکمل طور پر سیلابی پانی میں گھِر گیا ہے۔ اوچ شریف کے موزہ چک کہل اور موزہ گمانی میں درجنوں دیہات متاثر ہوئے ہیں اور مقامی افراد انتظامیہ سے فوری ریسکیو آپریشن کی اپیل کر رہے ہیں۔

قبولہ شریف میں ستلج کی سیلابی لہر سے کئی دیہات ڈوب چکے ہیں، ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ عارفوالا میں پانی سے جلدی بیماریوں کے کیسز بڑھنے لگے ہیں۔ لودن کے علاقے چھاجو ڈے میں 200 سے زائد مکانات سیلاب کی نذر ہو گئے ہیں۔دریائے سندھ کے گڈو بیراج پر پانی کی سطح پانچ لاکھ کیوسک سے تجاوز کر گئی ہے اور ماہرین نے آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید اضافے کی پیش گوئی کی ہے، جس سے ندی کنارے علاقوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ تیز بہاؤ کے باعث زمین کا کٹاؤ بھی تیز ہو گیا ہے۔حکام اور ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔