مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما اور وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے پاک بھارت کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ایٹمی طاقتیں اگر تناؤ کی حالت میں آمنے سامنے آئیں تو جنگ کی صورت میں کسی کا کچھ نہیں بچے گا۔
انہوں نے بھارت کے فالس فلیگ آپریشن کے ردعمل میں کہا کہ پہلگام حملے کے بعد پاکستان پر بغیر کسی ثبوت اور تحقیق کے الزام تراشی بھارتی حکومت کا غیر دانشمندانہ عمل ہے۔سعد رفیق نے بھارتی حکومت کی طرف سے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر الزامات عائد کیے، جو کہ ایک انتہا پسند حکومت کا غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انڈس واٹر سسٹم ٹریٹی کی غیر قانونی منسوخی اور پاکستان مخالف بھارتی اقدامات نے خطے میں مزید کشیدگی پیدا کی ہے، اور پاکستانی اقدامات جوابی کارروائی ہیں۔پاکستان کے ممکنہ جوابی اقدامات کے حوالے سے سعد رفیق نے کہا کہ پاکستان پہل نہیں کرے گا، تاہم اگر حملہ کیا گیا تو پورے قوت سے جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت بامعنی مذاکرات جاری رکھتا تو کئی متنازعہ مسائل حل ہو سکتے تھے۔
سعود رفیق نے اس بات پر زور دیا کہ سب سے بڑا تاریخی تنازعہ کشمیر ہے، اور اگر کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق مل جائے تو پائیدار امن کی جانب پیش رفت کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی، سیاچن اور سرکریک جیسے مسائل پر بھی بات کی جا سکتی ہے لیکن بھارتی حکومت ہمیشہ مذاکرات سے گریز کرتی آئی ہے۔سعد رفیق نے کہا کہ دونوں ممالک کو جنگ سے بچنے اور مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ "ہمیں ماننا ہوگا کہ ہم ایک دوسرے کو ختم نہیں کر سکتے، اور جنگ کبھی مسائل کا حل نہیں ہو سکتی۔" انہوں نے مزید کہا کہ ہر مسئلے پر بات چیت کرنی چاہیے تاکہ ایک دوسرے کے ساتھ امن سے رہنا سیکھا جا سکے، کیونکہ پائیدار امن خطے میں خوشحالی اور استحکام لانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جنگ کے بجائے بات چیت کی راہ ہموار کرنی چاہیے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کے لیے بہتر مستقبل کے امکانات پیدا ہو سکیں۔
4o mini