اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ بھارتی قیادت ہوش کے ناخن لے، سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس میں یہ بات واضح طور پر درج ہے کہ کوئی بھی فریق اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر منسوخ نہیں کر سکتا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت طویل عرصے سے اس معاہدے کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اور اب اس اقدام کے ذریعے اس نے خطے میں کشیدگی کو جان بوجھ کر ہوا دی ہے۔سعد رفیق نے مزید کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلسل ریاستی دہشتگردی میں ملوث ہے، جہاں بے گناہ کشمیریوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں بھارت کو چاہیے کہ وہ ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کرے اور دوسری ریاستوں کی خودمختاری کا احترام کرے۔ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کو چھیڑنے سے نہ صرف آبی تنازعات جنم لیں گے بلکہ جنوبی ایشیا کے امن و استحکام پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
واضح رہے کہ بھارت نے حالیہ پہلگام واقعے کے بعد پاکستان پر الزامات عائد کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو فوری معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے پاکستان کا سوشل میڈیا ہینڈل بھی بلاک کیا، پاکستانی ویزے منسوخ کیے اور پاکستانی شہریوں کو ملک چھوڑنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔پاکستانی سیاسی و سفارتی حلقوں میں ان بھارتی اقدامات کو اشتعال انگیز اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری سے اس معاملے میں نوٹس لینے کی اپیل کی جا رہی ہے۔