ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر یحییٰ رحیم صفوی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ کا دائرہ بحرِ ہند تک وسیع ہوسکتا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں یحییٰ رحیم صفوی نے کہا کہ موجودہ تنازع پہلے ہی خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے آگے بڑھ کر بحیرۂ احمر تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق اگر جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے تو اس کے محاذ بحرِ ہند اور ممکنہ طور پر اس سے بھی دور علاقوں تک پھیل سکتے ہیں۔ایرانی مشیر نے تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ بحرِ ہند میں ایران کی جانب سے کس نوعیت کی ممکنہ فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے یا اس کا دائرہ کار کیا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی نئے حملے کی صورت میں جنگ کا جغرافیائی دائرہ مزید وسیع ہونے کا امکان ہے۔حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں کشیدگی کے باعث عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کا اہم مرکز بنی ہوئی ہے، جبکہ بحیرۂ احمر اور اس سے منسلک بحری راستوں پر بھی تجارتی جہازوں کو سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔
ایرانی حکام اس سے قبل بھی امریکا کی جانب سے مزید حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کا دائرہ وسیع کرنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔ تازہ بیان میں بحرِ ہند کا ذکر اس لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ یہ خطہ مشرق وسطیٰ کو جنوبی ایشیا، مشرقی افریقا اور اہم عالمی بحری تجارتی راستوں سے ملاتا ہے۔دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی رابطے بھی جاری ہیں، تاہم اہم معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ایرانی حکام کی جانب سے جنگ کے ممکنہ جغرافیائی پھیلاؤ سے متعلق بیانات نے خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات کو نمایاں کردیا ہے۔