تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا، جبکہ دھونس اور دھمکیوں کی پالیسی اب مزید کامیاب نہیں ہوگی۔
جاری کردہ بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا نے اب تک یہ سبق نہیں سیکھا کہ دھونس، دباؤ اور وعدہ خلافی کی ہمیشہ قیمت چکانا پڑتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ "اگر حملہ کرو گے تو جواب بھی ملے گا، بے مقصد ہاتھ پاؤں مارنے کے بجائے باز آؤ، ورنہ مزید گہرائی میں ڈوب جاؤ گے۔"انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت ایران کے انتظامات کے تحت جاری رہے گی اور یہ کسی امریکی دھمکی یا دباؤ کے تابع نہیں ہوگی۔دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مارک روٹے کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات اس بات کا اعتراف ہیں کہ بعض یورپی ممالک امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں میں دانستہ طور پر شریک رہے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ جن ممالک نے اپنی سرزمین، فوجی اڈوں یا دیگر تنصیبات کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی، وہ اس "بلااشتعال جارحیت" اور اس کے ممکنہ نتائج کی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے۔ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں تہران کے ان تازہ بیانات کو خطے میں بڑھتی ہوئی سفارتی اور عسکری تناؤ کی ایک اور علامت قرار دیا جا رہا ہے۔