ملتان کے تحصیل جلال پور پیر والا کے دیہات اب بھی شدید پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
سیکڑوں گھر ملبے کے ڈھیر بن چکے ہیں اور ہزاروں ایکڑ پر اگائی گئی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں۔ کھیتوں میں اگنے والی گندم اور چاول سڑ گئے، کچے مکانوں کی دیواریں گر چکی ہیں اور لوگ چھت سے محروم ہوکر خیموں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔مقامی بزرگ محمد جمیل نے بتایا کہ "ہمارا گھر اور کھلیان سب پانی میں ڈوب گئے۔ برسوں کی محنت سے جمع کیا گیا اناج بھی خراب ہوگیا۔" ایک اور بزرگ تاج دین نے نمناک آنکھوں کے ساتھ کہا کہ "ہم اپنے گھر دوبارہ بنا لیں گے، لیکن خدا کے لیے کوئی پانی تو نکالے۔ ہماری زندگی بھر کی کمائی، خواب اور سب کچھ اس پانی نے بہا دیا ہے۔"یہ صرف چند خاندانوں کی کہانی نہیں بلکہ ان ہزاروں افراد کی تصویر ہے جو آج بھی کھلے آسمان تلے کٹھن زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
خیمہ بستیوں میں نئی زندگی
سیلاب کے اندھیروں میں امید کی کرن بھی نظر آ رہی ہے۔ جلال پور پیر والا کی ایک خیمہ بستی میں محمد اصغر کی اہلیہ نے بچی کو جنم دیا، جس کا نام عائشہ رکھا گیا۔ محمد اصغر نے بتایا کہ ان کے بچوں کی تعداد 12 ہے اور ایک اور بچے کی پیدائش متوقع ہے، جس سے تعداد 13 ہو جائے گی۔ وہ کہتے ہیں، "ایک طرف سیلاب کی وجہ سے ہم مصیبت میں ہیں، دوسری طرف اللہ نے اپنی رحمت سے نوازا ہے۔"خیمہ بستیوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر ظفر چیمہ کے مطابق اب تک 9 بچوں کی پیدائش ہو چکی ہے، اور تین خیمہ بستیوں میں 18 حاملہ خواتین ہیں جن کے بچے آئندہ ہفتوں میں متوقع ہیں۔ خواتین کے طبی معائنے کے لیے لیڈی ڈاکٹر بھی موجود ہیں جبکہ الٹرا ساؤنڈ کی سہولت کا انتظام کیا گیا ہے۔ ڈلیوری کے لیے خواتین کو مقامی پرائیویٹ اور سرکاری اسپتال منتقل کیا جائے گا۔تاہم خواتین کو سب سے زیادہ دشواری واش رومز اور صفائی کے ناقص انتظامات کی وجہ سے ہے۔ ایک خاتون رضیہ بی بی نے بتایا کہ "خیموں میں بنیادی ضروریات کا سامان تو مہیا کیا گیا ہے، لیکن واش رومز کی کمی اور صابن نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات ہیں۔"
درخت پر پناہ لینے والا شہری
سیلاب کی تباہ کاریوں نے کئی حیران کن مناظر بھی دکھائے۔ مقامی شہری حاجی رسول بخش دو ہفتوں تک اپنے گھر کے صحن میں لگے درخت پر لکڑی کے تختے رکھ کر بیٹھا رہا۔ وہ کہتے ہیں، "میں گھر چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا تھا۔ بچوں اور خواتین کو محفوط مقام پر بھیج دیا، خود گھر کی حفاظت کے لیے بیٹھا رہا۔"سیلاب متاثرہ علاقوں میں گھروں اور سامان کی حفاظت کے لیے ہر خاندان کا ایک یا دو فرد موجود رہتا ہے کیونکہ دریائی علاقوں میں لوگ گھروں سے سامان چرا لیتے ہیں۔
فلاحی تنظیموں کا جذبہ خدمت
پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں آٹھ خیمہ بستیاں قائم کی ہیں، جہاں 10 ہزار سے زائد افراد رہائش پذیر ہیں۔ ان بستیوں میں تین وقت کا کھانا فراہم کیا جاتا ہے، ہر خیمے کو پنکھا اور سولر پلیٹ دی گئی ہے، اور مچھر دانیوں کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان محمد تابش قیوم نے کہا کہ "ہمارا سفر ریسکیو سے ریلیف اور ریلیف سے بحالی تک جاری رہے گا۔ لاہور، فیصل آباد اور کراچی سے 500 رضاکار متاثرین کے گھروں کی صفائی اور بحالی میں مدد کر رہے ہیں۔"خیمہ بستیوں میں بچوں کے لیے عارضی اسکول قائم کیے گئے ہیں، اور میڈیکل کیمپس میں ڈاکٹر دن رات خدمات انجام دے رہے ہیں۔
حکومتی اقدامات اور اعدادوشمار
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق دریاؤں میں پانی کی سطح بتدریج کم ہو رہی ہے اور صورتحال بہتری کی طرف جا رہی ہے، تاہم تباہی کی وسعت بہت زیادہ ہے۔رپورٹس کے مطابق پنجاب کے 27 اضلاع براہِ راست متاثر ہوئے، جبکہ 4700 سے زائد دیہات پانی میں ڈوب گئے۔ تقریباً 47 لاکھ افراد متاثر ہوئے، اور 26 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ 271 ریلیف کیمپس، 300 میڈیکل کیمپس اور 283 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے۔ 134 شہری جان بحق ہوئے، جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ریلیف کمشنر نبیل جاوید نے کہا کہ نقصانات کے تخمینے کے لیے سروے 24 ستمبر سے شروع ہو چکا ہے اور متاثرہ شہریوں کو شفاف طریقے سے معاوضہ دیا جائے گا۔
عوامی شکایات اور محرومیاں
اگرچہ حکومت کی طرف سے ریلیف کیمپ قائم ہیں، مقامی لوگ ان کی حالت سے خوش نہیں۔ متاثرین کے مطابق سرکاری کیمپوں میں کھانا فراہم کیا جاتا ہے، مگر مچھر دانیوں، پنکھوں اور دیگر سہولتوں کا فقدان ہے۔ حبس اور گرمی نے بیماریاں پھیلا دی ہیں۔ امداد کی تقسیم میں بے نظمی بھی دیکھی گئی ہے، اور بعض خاندان متعدد بار راشن وصول کر رہے ہیں، جبکہ کئی اب تک خالی ہاتھ ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اور فلاحی اداروں کو ایک مشترکہ نظام بنانا ہوگا تاکہ امداد شفاف اور مؤثر انداز میں متاثرین تک پہنچ سکے۔
امید کی کرن
سیلاب نے خواب اور زندگیاں توڑ دی ہیں، لیکن متاثرین کی ہمت اور فلاحی اداروں کا جذبہ نئی کہانیاں لکھ رہا ہے۔ خیمہ بستیوں میں ننھی عائشہ کی پیدائش، رضاکاروں کی خدمت، اور مقامی لوگوں کا حوصلہ یہ بتاتا ہے کہ امید کی روشنی اب بھی باقی ہے۔ یہ وقت صرف پانی نکالنے کا نہیں بلکہ ٹوٹے خوابوں کو جوڑنے کا ہے، اور یہ تبھی ممکن ہوگا جب حکومت، فلاحی تنظیمیں اور معاشرہ ایک ساتھ کھڑے ہوں۔